خطبات محمود (جلد 25) — Page 577
$1944 577 خطبات مج محمود ولیا چھین لیتے ہیں، اُس کی تلواریں چھین لیتے ہیں، اُس کی مشین گنیں چھین لیتے ہیں، اُس کی لٹریاں چھین لیتے ہیں، اُس کی تجارت پر قبضہ کر لیتے ہیں، اُس کی صنعت و حرفت کو برباد کر دیتے ہیں اور یہ خیال کر لیتے ہیں کہ ہم نے جنگ کے امکانات کا کلی طور پر انسداد کر دیا ہے تو ہم ایسا ہی کرتے ہیں جیسے ڈاکٹر مریض کو افیون کھلا کر اس کی بیماری کو دبا دیتا ہے یا اس کی بے چینی اپنے کو عارضی طور پر کم کر دیتا ہے۔بظاہر یہ معلوم ہو گا کہ مریض کو آرام آگیا ہے لیکن جب افیون کا اثر کم ہو گا، جب عارضی علاج کے اثرات جاتے رہیں گے تو اُس کی بیماری پھر عود کر آئے گی اور یا پھر اسی افیون کے نشہ میں بیمار مر جائے گا۔اسی طرح اگر اس جنگ کے اختتام پر صرف یہ کیا گیا کہ مغلوب قوموں سے ہتھیار لے لیے گئے ، اُن کے حقوق کو تلف کر دیا گیا اور اُن کے ساتھ ذلت اور نا انصافی کا سلوک روا رکھا گیا تو یہ صرف ایک علامت کا دبانا ہو گا بیماری موجود رہے گی اور وہ پھر کسی نہ کسی صورت میں دنیا میں ظاہر ہو کر رہے گی۔یہی بات دیکھ لو کیا ہندوستان سے انگریزوں نے ہتھیار نہیں لے لیے تھے ؟ مگر کیا دنیا کا کوئی شخص بھی کہہ سکتا ہے؟ کہ انگلستان اور ہندوستان میں جنگ نہیں ہو رہی؟ وہ ہزاروں ہزار آدمی جو کانگرسی یا انارکسٹ ہیں جو انگریزوں کے خلاف نفرت و حقارت کے جذبات اپنے دلوں میں رکھتے ہیں، جو انگریزوں کی حکومت کو ایک لمحہ کے لیے بھی پسند نہیں کرتے گو ان کے پاس تلواریں نہیں ہیں، گو ان کے پاس بندوقیں نہیں ہیں، گو ان کے پاس تو میں نہیں ہیں، گو ان کے پاس ہم نہیں ہے ہیں، گو ان کے پاس ہوئی جہاز نہیں ہیں مگر ان کی لڑائی انگریزوں سے برابر جاری ہے۔ان کے دل کا ہر وہ خیال جو انگریزوں کے خلاف پیدا ہوتا ہے، ان کی زبان کا ہر وہ لفظ جو انگریزوں کے خلاف نکلتا ہے تلوار اور بندوق اور توپ اور بم کا ہی قائم مقام ہوتا ہے۔صرف بیچارگی کی وجہ سے، صرف بیکسی کی وجہ سے، صرف کمزوری کی وجہ سے ہوائی جہازوں کی جگہ اُن کے خیال نے لے لی اور بموں کی جگہ اُن کی زبان نے لے لی ورنہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اُن کی انگریزوں سے لڑائی جاری ہے۔اور یہ خیال کر لینا کہ چونکہ انگریزوں نے ہندوستان سے ہتھیار لے لیے ہیں اس لیے یہ لڑائی بند ہو چکی ہے نادانی اور حماقت ہے۔وہ ہال جن میں کھڑے ہو کر وہ تقریریں کرتے ہیں اور وہ چوک جن میں انگریزوں کے خلاف وہ اپنے خیالات می