خطبات محمود (جلد 25) — Page 553
$1944 553 خطبات محمود بلکہ عیسائیت کو بھی چیلنج دیا گیا تھا، یہودیت کو بھی چیلنج دیا گیا تھا، مجوسیت کو بھی چیلنج دیا گیا تھا، ہندومت کو بھی چیلنج دیا گیا تھا اور بڑے زور سے یہ اعلان کیا گیا تھا کہ ان تمام مذاہب کو شکست دے کر اسلام ساری دنیا پر غالب آجائے گا۔یہ دعوی بھی ایک مجنونانہ دعوی تھا۔اس وجہ سے کفار رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پاگل کہا کرتے تھے اور صحابہ کو بھی وہ پاگل سمجھتے ؟ تھے کیونکہ وہ ایک ایساد عوامی کر رہے تھے جس کے پورا ہونے کے اس مادی دنیا میں انہیں کوئی ہے اسباب نظر نہیں آتے تھے۔دعوی کے لحاظ سے جس طرح لوگ آج ہمیں پاگل کہتے ہیں اور ان کا حق ہے کہ وہ ہمیں پاگل کہیں۔اسی طرح دعوی کے لحاظ سے دور سول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور آپ کے صحابہ کو بھی پاگل کہا کرتے تھے۔اور جہاں تک ان کی محدود عقلوں کا سوال تھا ان کا حق تھا کہ وہ ایسا کہتے کیونکہ یہ دعوی ایسا تھا جو انسانی طاقتوں سے بالا تھا۔مگر جس طرح ہے میں نے گزشتہ خطبہ میں توجہ دلائی تھی صرف دعوای کے لحاظ سے نہیں بلکہ عمل کے لحاظ سے بھی دنیا کو ہمیں پاگل سمجھنا چاہیے اور ہمیں ایسے جوش، ایسی محنت اور ایسی قربانی سے کام کرنا میں چاہیے کہ دنیا کہہ اُٹھے یہ قوم صرف اپنے دعوی کے لحاظ سے ہی اپنے اندر جنون نہیں رکھتی تھی بلکہ عملی لحاظ سے بھی ایک پاگل اور دیوانی قوم ہے۔یہی بات قرآن کریم نے مسلمانوں میں کے سامنے رکھی ہے چنانچہ اللہ تعالی صحابہ کو مخاطب کر کے فرماتا ہے حَيْثُ مَا كُنتُمْ فَوَلُوا وجُوهَكُمْ شَطرۂ پاگل وہ ہوتا ہے جو اپنی تمام تر توجہ صرف ایک کام کی طرف لگا دیتا ہے۔اور ی جب کوئی شخص دن رات صرف ایک کام میں مشغول رہتا ہے، کسی اور کام کا اُسے ہوش نہیں ہو تا تولوگ کہتے ہیں یہ پاگل ہو گیا ہے۔کیونکہ اسے کسی اور بات کا خیال ہی نہیں۔اٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے ، سوتے اور جاگتے اُسے ایک ہی دھن لگی ہوئی ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے حَيْثُ مَا كُنتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ تم دنیا کا کوئی کام کر رہے ہو، تم تجارت میں مشغول ہو یا زراعت میں مصروف ہو یا اپنے دوست کی ملاقات کے لیے جا رہے ہو یا لڑائی کے لیے نکل رہے ہو قولوا وُجُوهَكُمْ شَظرہ تمہارا منہ ہمیشہ مکہ کی طرف رہنا چاہیے۔یعنی تمہارے سامنے صرف ایک مقصد رہنا چاہیے کہ تم نے مکہ فتح کرنا ہے اور کوئی خیال، کوئی کام، کوئی جذبہ اور کوئی خواہش تمہارے اس مقصد پر غالب نہیں آنی چاہیے۔یہی دھن ہے جو تمہیں