خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 552 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 552

خطبات محمود 552 $1944 اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ پروگرام ان کی طاقت سے بہت بالا تھا۔بے شک عرب آرگنائزڈ سٹیٹ (ORGANIZED STATE) نہیں تھی مگر وہ انار کی بھی نہیں تھی۔عرب کی ایک حکومت سمجھی جاتی تھی۔مختلف بادشاہ اس کے ساتھ تعلق رکھتے اور معاہدات وغیرہ کرتے تھے۔اس طرح مکہ گوڈس آر گنائزڈ (DISORGANIZED) ہو مگر بہر حال وہ ایک ایسے ملک کا دارالحکومت تھا جس کی آبادی 15 ، 20 لاکھ تھی۔ارد گرد کے تمام قبائل کی نگاہیں اسی کی طرف اٹھتی تھیں اور وہ اس کے فیصلوں اور حکموں کو واجب الاطاعت سمجھتے تھے۔پھر اُس زمانہ کے لحاظ سے وہ ایک بہت بڑا شہر تھا۔پندرہ سولہ ہزار اُس کی آبادی تھی۔اور نہ صرف تمام کی تمام آبادی بلکہ ملک بھر کے پندرہ بیس لاکھ آدمی سب کے سب سپاہی تھے۔فنونِ جنگ میں بہت بڑی مہارت رکھتے تھے۔جنگجو، بہادر اور لڑا کے تھے اور مسلمانوں کے لیے اُن کا مقابلہ کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔جس وقت آیت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوئی ہے اس وقت مسلمانوں میں صرف چار پانچ سو سپاہی تھے۔زیادہ سے زیادہ ہزار سمجھ لو اور عورتوں اور بچوں وغیرہ کو ملا کر اُن کی گل تعداد گیارہ بارہ ہزار ہو گی اس سے زیادہ مسلمانوں کی تعداد نہیں تھی۔اور ان کی جنگی طاقت تو میں بہر حال نا قابلِ ذکر تھی۔مگر ایسی حالت میں جب کہ مسلمان سخت کمزور تھے، جب اُن کی تعداد کفار کے مقابلے میں کوئی نسبت ہی نہیں رکھتی تھی، جب ان کے پاس لڑائی کا کوئی سامان ہے نہ تھا اور جب ان کی جنگی طاقت کفار کے مقابلہ میں کوئی حقیقت نہیں رکھتی تھی اللہ تعالی تمہیں تمام کفار کو چیلنج دیتا ہے کہ یہ مسلمان کو تمہیں تھوڑے دکھائی دیتے ہیں، تمہیں کمزور اور ناطاقت نظر آتے ہیں مگر یہی مسلمان ایک دن تمہارے ملک کو فتح کریں گے ، تمہارے دارالحکومت پر قابض ہوں گے اور وہاں ان کو اس قدر غلبہ میسر آجائے گا کہ یہ اسلام کے احکام کو وہاں جاری کریں گے اور کفر کو عرب کی سرزمین سے بالکل مٹا دیں گے۔یہ دعوی مسلمانوں کی حالت کے لحاظ سے ایک مجنونانہ دعوی تھا اور پھر یہ دعوی ایسا تھا جو کسی خاص علاقہ سے مخصوص نہیں تھا بلکہ اس دعوی کا اثر وسیع سے وسیع تر تھا۔کیونکہ نہ صرف اس میں مکہ کو فتح کرنے کی پیشگوئی کی گئی تھی، نہ صرف عرب پر غالب آ جانے کا اعلان کیا گیا تھا