خطبات محمود (جلد 25) — Page 478
$1944 478 محمود تمہیں امن نہیں ملے گا۔یہ گویا اس وقت کے لوگوں کا نقشہ ہے۔کسی نانک نے جو یقیناً حضرت باوانانک نہیں بلکہ کوئی ایسا انک ہے کہ جو خدا اور رسول کی عزت اپنے دل میں نہیں رکھتا تھا اپنے زمانہ کا یہ نقشہ کھینچا ہے کہ اس وقت دنیا کا یہ حال ہے کہ اس زمانہ میں تقوی اور امانت کو بالکل نقصان دہ اور خرابی والی چیز سمجھا جاتا ہے۔اگر کوئی ان باتوں پر عمل کرے جو اسلام نے نیکی، تقوی، می دیانتداری وغیرہ کے متعلق بتائی ہیں بلکہ دوسرے مذاہب نے بھی نیکی اور دیانت کے متعلق جو تعلیم دی ہے اس میں سارے مذہب شامل ہیں۔ہندو بھی یہی کہتے ہیں کہ دیانت داری بڑی اچھی چیز ہے، عیسائی بھی یہی کہتے ہیں کہ یہ بڑی اچھی چیز ہے، یہود بھی یہی کہتے ہیں کہ یہ بڑی ہے اچھی چیز ہے۔پس جہاں تک اصول کا تعلق ہے کوئی مذہب بھی ایسا نہیں جو یہ کہتا ہو کہ امانت مینی نہ برتو یا سچائی اور دیانتداری سے کام نہ لو یا انصاف نہ کرو۔لیکن اس کا کہنے والا اس قسم کی ہے باتوں پر عمل کرنا اپنی بربادی سمجھتا ہے اور اپنی راحت اور چین اور سکھ اسی میں سمجھتا ہے کہ ا غیروں کا مال جس طرح چاہو ہتھیاؤ اور کھاؤ اور پیو۔اگر ایسا کرو گے تو یہی سکھ کا موجب ہو گا اور اگر ایسا نہیں کرو گے تو راحت اور چین نہیں ملے گا۔اس کے نزدیک یہ بھی کوئی عظمندی ہے کہ ہمارے پاس پیسے نہ ہوں اور ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بغیر اپنی ضرورت کو پورا کرنے کے بیٹھے رہیں۔عقلمندی یہی ہے کہ اپنی ضرورت کو پورا کرنا چاہیے اگر چہ ڈاکہ ڈال کر یا بددیانتی ہے سے پوری کرنی پڑے۔یہ چیز اس زمانہ میں ہم عام طور پر دیکھ رہے ہیں اور سو میں سے ننانو۔آدمی اسی خرابی میں مبتلا ہیں۔ہماری جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت کچھ پاک ہے۔مگر پھر بھی معاملات کی صفائی اور مظلوم کی امداد میں بہت کچھ ترقی کی ان کو ضرورت ہے۔یاد رکھو! بعض چیزیں تقوی شعار ہوتی ہیں اور ہر زمانے کا یہ شعار اُس زمانے کی نیکی کے لحاظ سے اونچا نیچا ہوتارہتا ہے۔اس لیے میں نے بارہا خطبات اور تقاریر میں اس طرف توجہ دلائی ہے کہ کبائر کے یہ معنے کرنا کہ وہ کوئی خاص جرائم ہیں یہ غلط ہے۔کبیرہ تو اُس کو کہتے ہیں جس کا چھوڑنا نفس پر بو جھل ہو۔پس جو چیز جسم پر بو جھل محسوس ہو اسی کو کبیرہ کہیں گے۔چنانچہ قرآن کریم میں بھی یہ لفظ می