خطبات محمود (جلد 25) — Page 366
خطبات محمود 366 $1944 سب سے پہلی بات جس کی طرف میں توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ جن لوگوں نے زندگیاں وقف کی ہیں اُن میں سے بعض کے متعلق یہ اعلان کر دیا گیا تھا کہ وہ 25 مئی تک انٹرویو کے لیے قادیان پہنچ جائیں تاکہ ان کے متعلق یہ فیصلہ کیا جاسکے کہ سلسلہ ان کا وقف نے کے لیے تیار ہے یا نہیں یا سلسلہ انہیں کس کام پر مقرر کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس سلسلہ میں بعض لوگ جنہوں نے اپنے آپ کو وقف کیا تھا وقت پر حاضر نہیں ہوئے۔میں تحقیقات کروں گا کہ اُن کے وقت پر حاضر نہ ہونے کی ذمہ داری تحریک جدید کے دفتر پر ہے یا اُن پر ہے۔اگر تحقیقات کے بعد یہ ثابت ہوا تو کہ اس کی ذمہ داری دفتر تحریک جدید پر ہے اور اُس نے میرے کہنے کے باوجود ان لوگوں کو اطلاع نہیں دی تو اس صورت میں اس کی سرزنش اور پرسش کا مستحق دفتر تحریک جدید ہو گا۔لیکن اگر یہ ثابت ہوا کہ ان لوگوں کو اطلاع تو مل گئی تھی مگر باوجود اطلاع مل جانے کے وہ می نہیں آئے اور کم سے کم انہوں نے یہ اطلاع بھی نہیں دی کہ ہم وقت پر فلاں مجبوریوں کی وجہ سے حاضر نہیں ہو سکتے۔تو ایسے احمدی جنہوں نے اپنے آپ کو وقف کیا تھا انہیں یا د رہنا چاہیے کہ اب ان کو انٹرویو کے لیے نہیں بلایا جائے گا۔بلکہ ان کو اس لیے بلایا جائے گا کہ کیوں نہ اُن کو اس مجرم کی بناء پر سلسلہ سے خارج کر دیا جائے۔میں ہار ہا بتا چکا ہوں کہ وقف جہاد کا ایک حصہ ہے۔ہر وہ شخص جو وقف کو کھیل میں سمجھتا ہے وہ اپنی بے ایمانی پر مہر لگاتا ہے اور اس بات کا اظہار کرتا ہے کہ اس کو در حقیقت سلسلہ سے کوئی تعلق ہی نہیں۔وہ ایک کھیل اور تماشا سمجھ کر اس جماعت میں داخل ہوا تھا۔قرآن کریم میں نہایت وضاحت سے فرمایا گیا ہے کہ جہاد میں حصہ لینے والے شخص کے لیے جہاد میں مر جانا یا فتح حاصل کر کے واپس لوٹنا یہ دو ہی چیزیں ہیں۔اگر کوئی شخص موقع سے پیچھے مے ہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دوزخ کے سوا اُس کا کہیں ٹھکانا نہیں ہے۔1 حقیقت یہ ہے کہ آج اسلام ایسی مصیبت میں مبتلا ہے جس کا اندازہ لگانا بھی انسانی قیاس اور واہمہ سے باہر ہے۔آج دنیا میں ہر شخص کے لیے ٹھکانا ہے لیکن اگر ٹھکانا نہیں تو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے دین کے لیے۔جیسے حضرت مسیح ناصری نے کہا تھا کہ می