خطبات محمود (جلد 25) — Page 304
خطبات محج محمود 304 $1944 بڑھا اور لاری کو روک لیا۔لاری کے ساتھ چند ایک نوجوان تھے۔جب ہجوم نے لاری کو روکا تو میں نے خیال کیا کہ اب ان نوجوانوں کی خیر نہیں۔ہجوم نے پتھر برسانے شروع کیسے مگر میرے دیکھتے دیکھتے پانچ سات نوجوان سامنے آئے اور انہوں نے سینکڑوں لوگوں کا مقابلہ کیا۔میں یہ دیکھ کر حیران تھا اور سمجھتا تھا کہ یہ نوجوان مارے جائیں گے۔لیکن ابھی دو تین منٹ ہی نہ گزرے تھے کہ میں نے دیکھا وہ ہجوم بھیڑوں بکریوں کی طرح بے تحاشا بھاگا جارہا تھا اور لاری اور اس کے محافظ سائیکلسٹ آرام سے اپنی منزلِ مقصود کی طرف جارہے تھے۔بات یہ ہے کہ ہم امن کی وجہ سے خاموش رہتے ہیں اور گور نمنٹ کا کام اپنے ہاتھ میں لینا نہیں چاہتے۔ورنہ سچی بات تو یہ ہے کہ انبیاء کی جماعتیں جہاں صبر کرنا جانتی ہیں وہاں مرنا بھی جانتی ہیں اور جو قوم مرنے کے لیے تیار ہو اُسے کوئی نہیں مار سکتا۔میں خدا تعالی کے فضل پر ہے بھروسہ رکھتے ہوئے کہہ سکتا ہوں کہ یہ سات آٹھ ہزار آدمی نہیں۔اگر دہلی کے تمام لوگ بھی ہم پر حملہ کرتے تو بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے ہم اُن کو بھگا دیتے۔مگر ہم نے پولیس کے کام میں دخل دینا پسند نہ کیا۔جب عورتوں کی لاریوں پر انہوں نے حملہ کیا تو وہاں احمدیوں نے مقابلہ کیا اور خدا تعالیٰ کے فضل سے چند آدمی سینکڑوں کو بھگا کر لے گئے۔غیر مسلم اور غیر احمدی خواتین کو خطرہ کا بہت احساس تھا۔بعض تو گھبراہٹ میں کانپنے لگیں۔مگر اس وقت ہے احمدی عورتوں نے بھی بہت بہادری دکھائی اور ان کے ارد گرد قطار باندھ کر کھڑی ہو گئیں اور ہے کہا کہ آپ گھبرائیں نہیں۔اگر کوئی اندر آیا تو ہم مقابلہ کریں گی۔حکومت ہند کے ایک من سیکرٹری صاحب کی اہلیہ صاحبہ بھی جلسہ میں تھیں ان کو جب موٹر میں بٹھایا گیا تو ان کے ایک من طرف میری لڑکی بیٹھ گئی اور دوسری طرف ایک اور غیر احمدی خاتون جو بہادر دل کی تھیں تا اگر باہر سے پتھر وغیرہ آئیں تو ان کو نہ لگیں اور اس طرح موٹر میں بٹھا کر ان کو گھر پہنچایا ہے گیا۔تو اللہ کے فضل سے اس موقع پر عورتوں نے بھی ثابت کر دیا کہ اگر موقع آجائے تو وہ یہ جان دینے سے دریغ نہیں کرتیں۔بہر حال رات تک یہ شور وشر ہو تا رہا۔آخر جب عورتیں چلی گئیں جب میں نے افسروں سے کہلا بھیجا کہ اب ہم نے جانا ہے۔کیا آپ لوگ ہمارے لیے میں رستہ بنادیں گے یا ہم خود بنا لیں ؟ انہوں نے کہا کہ ہم خود آپ لوگوں کو بحفاظت پہنچائیں گے۔