خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 291 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 291

خطبات محمود 291 $1944 پھر خدا ایک نیا نظام قائم کرے گا اور اُس نئے نظام کے ذریعہ اپنی ان نعمتوں کو دوبارہ واپس لانے کے سامان مہیا کرے گا۔کیونکہ جو نعمتیں ایک دفعہ کسی قوم کے ہاتھ سے نکل جائیں وہی قوم ان نعمتوں کو دوبارہ کبھی حاصل نہیں کر سکتی۔دنیا کی تاریخ میں یہ کہیں بھی نظر نہیں آتا کہ ایک قوم کے ہاتھ سے جب کوئی نعمت نکل گئی ہو تو پھر وہی قوم اس نعمت کو سمیٹ سکی ہو۔اُس وقت بحیثیت قوم ان نعمتوں کو سمیٹا نہیں جاسکتا۔ہاں! افراد ایک ایک دانہ چنتے اور استعمال کرتے رہتے ہیں۔جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد بھی امت محمدیہ میں بعض بڑے بڑے بزرگ ہوئے۔مثلاً حضرت سید عبد القادر صاحب جیلانی حضرت معین الدین صاحب چشتی، حضرت سید احمد صاحب سرہندی، حضرت ولی اللہ شاہ صاحب دہلویؒ ، حضرت شہاب الدین صاحب سہر وردی اور اسی طرح اور ہزاروں اولیاء امتِ محمدیہ میں ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی روحانی نعماء سے فائدہ اٹھاتے رہے۔مگر ان کی مثال ایسی ہی تھی جیسے مر غاز مین پر سے ایک ایک دانہ چن کر کھاتا ہے۔انہوں نے بھی نعمتوں کے ایک ایک وائے زمین سے بچنے اور استعمال کیے۔مگر سونے سے بھری ہوئی کا نہیں، موتیوں سے بھرے ہوئے سمندر اور لعل و جواہرات اور ہیروں کے انبار اُن کے زمانہ میں نہ رہے۔انہوں نے جس قدر انعامات حاصل کیسے انفرادی انعامات تھے قومی انعامات نہیں تھے۔لیکن انبیاء کے زمانہ میں تمام قوم کو انعامات میں سے حصہ دیا جاتا ہے۔پس اگر یہ معنے اس الہام کے ہیں تو یہ ہیں بھی تکلیف دہ ہیں۔دنیا نے بڑا انتظار کیا ایک ایسی ہدایت کا جو اُسے نور سے بھر دے، دنیا نے بڑا انتظار کیا اُس جنگ کا جو شیطان کو ہمیشہ کے لیے آخری شکست دے دے۔لیکن اگر اس جنگ میں شیطان کو فرشتے شکست بھی دے دیں اور مومن آگے نہ بڑھیں تو شیطان پھر واپس لوٹ آئے گا اور پھر اسلام کے قلعہ پر قبضہ کر لے گا۔اُسی قلعہ میں دشمن واپس نہیں آیا کرتا جس کے متعلق وہ جانتا ہو کہ اس میں غنیم کی فوجیں جمع ہیں۔لیکن اگر فرشتوں نے شیطان کا قلعہ سر کر لیا اور مومن آگے نہ بڑھے تو ہزاروں سال کی پیشگوئیاں اور وہ ایک لمبی لڑائی جو شیطان سے لڑی گئی تھی رائیگاں چلی جائے گی۔میں جانتا ہوں کہ پیشگوئیاں گلی طور پر یوں ہی نہیں چلی جاتیں مگر جب کوشش اور