خطبات محمود (جلد 25) — Page 288
$1944 288 خطبات محمود ہے جیسے دو شخص آپس میں ٹھیکہ کریں اور ایک شخص دوسرے سے سمجھوتہ کرے کہ نم امر تسر سے دس میل کے فاصلہ پر اتنے لاکھ من سونا پہنچا دو۔وہاں تک سونا پہنچانا تمہارا کام ہے۔اس کے بعد میر اکام شروع ہو گا اور میں اُس سونے کو اُٹھا کر اپنے گھر لے آؤں گا۔اب اگر دوسرا شخص اس معاہدہ کے مطابق ٹھیک مقررہ تاریخ کو امر تسر سے دس میل کے فاصلے پر سونا لا کر رکھ دے مگر یہ شخص ابھی قادیان سے ایک میل کے فاصلے پر ہی ہو تو جانتے ہو اس میں کا کیا نتیجہ ہو گا ؟ یہی ہو گا کہ چور آئیں گے اور اُس سونے کو اٹھا کر لے جائیں گے، ڈاکو آئیں گے اور اس سونے پر قبضہ کر لیں گے اور جب یہ شخص وہاں سونا لینے کے لیے پہنچے گا تو اس جگہ کو بالکل خالی پائے گا۔اللہ تعالی بھی اس الہام میں اسی امر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ تم نے تو ابھی اس راستے کو طے ہی نہیں کیا جس پر چل کر ان انعامات کے تم مستحق بن سکتے ہے ہو۔مگر ہماری حالت یہ ہے کہ ہم اس دن کو جو تمہاری فتح اور کامیابی کا دن ہے تمہارے قریب ہے لاچکے ہیں۔روز جزا قریب ہے اور رہ بعید ہے میری طرف سے جو کچھ ظاہر ہونا تھا اس کی تیاریاں آسمان پر مکمل ہو چکی ہیں مگر تم نے جو کچھ کرنا تھا اُس کے لیے ابھی کئی منزلیں طے کرنی باقی ہیں۔مجھے جب یہ الہام ہوا تو میں نے اُس وقت سوچا کہ گو میں جماعت کو جلدی جلدی آگے کی طرف اپنا قدم بڑھانے کی تحریکات کر رہا ہوں۔جس پر بعض لوگ ابھی سے گھبرا اٹھے ہیں کہ کتنی جلدی جلدی نئی سے نئی تحریکیں کی جارہی ہیں۔کبھی وقف جائیداد کی تحریک مینی کی جاتی ہے، کبھی وقف زندگی کی تحریک کی جاتی ہے، کبھی کالج کی تعمیر کے لیے چندہ کی تحریک کی جاتی ہے مگر اللہ تعالیٰ اس کو بھی ناکافی قرار دیتا ہے اور فرماتا ہے تمہارا رہ بعید ہے۔یعنی ابھی تم نے کچھ بھی نہیں کیا۔سفر ابھی بہت باقی ہے اور تمہارا قدم خطر ناک طور پر ست ہے۔حالانکہ میں نے جو کام کرنا تھا وہ کر لیا، میرا ٹھیکہ پورا ہو گیا اور جو چیز میں نے تم کو دینی تھی وہ منی دے دی۔مگر تم ابھی اپنے کام کے لیے تیار نظر نہیں آتے۔اس مفہوم کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے اس الہام کا ایک اور امر کی طرف بھی اشارہ ہو سکتا۔ہے۔