خطبات محمود (جلد 25) — Page 287
$1944 287 خطبات محمود وہ الہام یہ تھا جو خود ایک مصرع کی شکل میں ہے کہ 6 روز جزا قریب ہے اور رہ بعید ہے بڑے زور سے یہ الہام مجھ پر نازل ہوا اور بار بار اس کو دہرایا گیا۔اس الہام کے اور معنی بھی ہو سکتے ہیں مگر میں نے اُس وقت جو اس الہام کے معنے سمجھے وہ یہ ہیں کہ وہ تغیرات عظیمہ جن کا پیشگوئیوں میں ذکر کیا گیا تھا اور وہ اسلام اور احمدیت کے غلبہ کے ایام جن کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر دی گئی تھی بالکل قریب آپہنچے ہیں۔روزِ جزا اب سر پر کھڑا ہے۔قدرت کا زبردست ہاتھ اُس دن کو اب قریب تر لا رہا ہے۔مگر رہ بعید ہے۔جماعت نے اس آنے والے دن کے لیے ابھی وہ تیاری نہیں کی جو اسے کرنی چاہیے تھی۔اور ابھی اس نے وہ مقام حاصل نہیں کیا جو اس عظیم الشان یوم جزا کے انعامات کا اسے مستحق بنانے والا ہو۔اس کے لیے ابھی بہت بڑا اور لمبا راستہ پڑا ہے جسے اسے طے کرنا ہے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: روزِ جزا قریب ہے یعنی وہ جو ہمارا کام تھا ہم نے اسے پورا کر دیا اور ہم نے اُس دن کو تمہارے سامنے لا کر رکھ دیا۔جو تمہاری کامیابی اور تمہاری فتح اور تمہارے غلبہ کا دن ہے۔گویا اللہ تعالیٰ اس الہام کے ذریعہ جماعت احمدیہ کو مخاطب کرتا اور اسے فرماتا ہے کہ اے احمد کی جماعت ! جو ہمارا حصہ تھا ہم نے اُسے پورا کر دیا، جتنے سامان یوم جزا کو قریب تر لانے کے لیے ضروری تھے ہیں وہ ہم نے سب مہیا کر دیئے اور اسلام اور احمدیت کی فتح کے سامان ہم نے جمع کر لیے۔پس اب قریب ترین زمانہ میں اس فتح کے آثار ظاہر ہونے شروع ہو جائیں گے ، قریب ترین زمانہ میں اسلام اور احمدیت کے غلبہ کے راستے دنیا میں کھل جائیں گے۔مگر رہ بعید ہے۔وہ راستہ جو ابھی تم نے طے کرنا ہے اور جس پر چل کر تم نے اس روز جزا سے فائدہ اٹھانا ہے وہ ابھی بہت بعید ہے۔تم میں سے کئی ہیں جنہوں نے ابھی اس راستہ پر چلنا بھی شروع نہیں کیا اور کئی ایسے ہیں جو اس راستے پر چل تو پڑے ہیں مگر انہوں نے سفر ابھی بہت کم طے کیا ہے۔گویا ہم نے تو اپنا حصہ پورا کر دیا مگر تم نے اپنے حصہ کو پورا نہیں کیا۔اب دیکھو! یہ ایسی ہی بات ہے