خطبات محمود (جلد 25) — Page 263
خطبات محمود 263 $1944 آج ایک اقرار کریں۔صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ ! ہم اس کے لیے تیار ہیں۔آپ نے فرمایا اگر مکہ سے یہ خبر آئی کہ اہل مکہ نے عثمان کو شہید کر دیا ہے تو میں اور تم یہ اقرار کریں کہ اب اس جگہ سے زندہ واپس نہ جائیں گے بغیر اس کے کہ یا تو دشمن کو شکست دے کر آئندہ کے لیے رستہ صاف کر لیں یا پھر یہیں مارے جائیں گے۔کیا تم اس پر راضی ہو ؟ صحابہ نے کہا یارسول اللہ ! بڑی خوشی سے راضی ہیں۔آپ نے فرمایا پھر آؤ بیعت کرو 1 آپ کے ارد گرد چند صحابہ اُس وقت بیٹھے تھے باقی ادھر اُدھر تھے۔کسی نے بلند آواز سے اُن کو بھی اطلاع دی اور جس جس کے کان میں یہ آواز پڑتی گئی وہ دوڑتا چلا آتا تھا اور بیعت ہے کا اس قدر زور تھا کہ صحابہ کہتے ہیں ہماری کیفیت یہ تھی کہ اگر خدا تعالیٰ کا خوف نہ ہوتا تو تلوار سے ایک دوسرے کی گردن کاٹ کر بھی پہلے بیعت کرتے۔حضرت عبد اللہ بن عمر اس مجلس : میں موجود تھے۔انہوں نے دور دور تک نگاہ کی اور دیکھا کہ ان کے والد حضرت عمر وہاں نہ تھے۔ان کی بیٹا ہونے کی عصبیت ذاتی جوش پر غالب آگئی اور وہ دوڑ پڑے تا اپنے والد کو تلاش کر کے لائیں۔آخر حضرت عمران کو ایک جگہ مل گئے اور وہ ان کو لے آئے اور سب نے بیعت کی۔وقت گزر گیا اور معلوم ہوا کہ حضرت عثمان کی شہادت کا خیال صحیح نہ تھا۔انہیں گفتگو میں دیر ہو گئی تھی۔اہل مکہ نے حضرت عثمان سے کہا کہ آپ آئے ہوئے ہیں آپ چاہیں تو عمرہ کر لیں۔مگر آپ نے کہا کہ وہ عمرہ جس سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو روکا گیا ہے میرے لیے حرام ہے۔وہ وقت گزر گیا مگر اس بیعت کو صحابہ اپنے عظیم الشان کارناموں میں شمار کرتے تھے اور فخر کے ساتھ اس کا ذکر کیا کرتے تھے۔کوئی کہتا میں نے پہلے بیعت کی اور کوئی کہتا ہے فلاں کے بعد میں نے کی۔کسی مجلس میں ایک دفعہ اسی طرح ذکر ہو رہا تھا۔حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بھی اس مجلس میں تھے اور حضرت عمرؓ بھی۔حضرت عبد اللہ نے کہا کہ میں سب سے پہلے بیعت کر سکتا تھا مگر میں نے دیکھا کہ میرے والد اس مجلس میں نہ تھے۔میں نے خیال کیا کہ وہ ثواب سے محروم نہ رہ جائیں اور اُن کی تلاش میں چلا گیا اور اس طرح مجھے دیر ہو گئی۔جب می حضرت عمر نے یہ بات سنی تو کہا خدا کی قسم ! اگر میں تمہاری جگہ ہوتا تو پہلے خود بیعت کرتا اور یہ تمہاری تلاش کے لیے نہ جاتا۔تو بات یہی ہے کہ دینی امور میں خدا تعالیٰ کی قربت کا سوال