خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 260 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 260

$1944 260 خطبات محمود ر کے سامنے ہوتی ہیں۔اُن کی قسمت یا بد قسمتی یا کوشش اور سستی ان کو ان میں سے کسی ایک جگہ پر پہنچا دیتی ہے اور ان کے ذہنوں میں یہ تینوں صورتیں مستحضر ہوتی ہیں۔یا وہ محاصرہ کرنے والی فوج کو کاٹ کر باہر نکل جاتی ہیں یا باہر نکلنے کی کوشش میں ماری جاتی ہیں یا ہمت ہار کر ہتھیار ڈال دیتی ہیں۔مگر وائے قسمت اُس فوج کی جس کو ایسے حملہ کے لیے مقرر کیا گیا ہے جس کی کوئی تعیین نہیں، کوئی حد بندی نہیں۔وہ نہیں جانتی کہ کس مقام پر اُس نے حملہ کرنا ہے۔اور در حقیقت وہ اس کو جان سکتی ہی نہیں کیونکہ جن قلعوں پر حملہ کرنا اس کے سپر د کیا گیا ہے وہ زمین دوز ہیں۔باہر ان کا کوئی نشان نہیں۔بلکہ وہ انسانوں کے دلوں اور دماغوں میں ہیں۔اس کو ان اندرونی سر نگوں کا کوئی علم نہیں جو مستقبل زمانہ کے لیے اندر ہی اندر کھو دی گئی ہیں۔ہر زمانہ کا ایک خیال اور ہر زمانہ کی ایک قوم ہوتی ہے۔بھی چین کے لیے آگے بڑھنا می مقدر ہوتا ہے اور کبھی جاپان کے لیے، کبھی عرب کے لیے آگے بڑھنا مقدر ہوتا ہے اور کبھی فلسطین کے لیے، کبھی مصر اور شام کے لیے مقدر ہوتا ہے، کبھی مغرب کے لیے آگے بڑھنا مقدر ہوتا ہے اور کبھی مشرق کے لیے مقدر ہوتا ہے اور وہی قوم مستقبل میں کامیابی کا منہ دیکھتی ہے جو اس قوم کو جس کے لیے آئندہ زمانہ میں آگے بڑھنا مقدر ہے اپنے ساتھ ملا لیتی ہے ہے۔جب دنیا میں انبیاء صرف ایک ہی قوم کی طرف آیا کرتے تھے اُن کا کام آسان ہو تا تھا۔وہ جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے انہی کی قوم کو بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔مگر جب اللہ تعالیٰ نے ایک ہی منہ سے ساری دنیا کو مخاطب کرنا شروع کیا تب سے یہ بات مشتبہ ہو گئی کہ کونسی قوم ہے جس کا آگے بڑھنا مقدر ہے اور اس وجہ سے روحانی جماعتوں کا کام نہایت ہی مشکل ہو گیا۔پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں یہ آسانی تھی کہ اُس زمانہ میں شریعت کے قیام کا سوال تھا اور شریعت لانے والے انبیاء کی زندگی میں ہی حکومت مل جایا کرتی ہے۔ایک من قوم تھی جسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا پڑھایا اور پھر اسی کے ہاتھ میں حکومت آگئی اور اس نے اسلام کو پھیلایا۔مگر جو کام ہمارے سپر د ہے وہ بہت ہی مشکل ہے۔ہمیں کوئی علم نہیں کہ کونسی قوم ہے جس کا بڑھنا اس زمانہ کے لیے اللہ تعالی نے مقدر کیا ہے۔احمدیت کا ہے چھینٹا تو اللہ تعالیٰ نے ساری دنیا میں دے دیا ہے۔کوئی یہاں کوئی وہاں، کوئی اس ملک سے