خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 229 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 229

خطبات محمود 229 $1944 مگر وہ زمانہ جب پہلے انبیاء کی امتوں نے قربانیاں کیں ایسا زمانہ تھا کہ اُس وقت ان سہولتوں میں سے کوئی سہولت بھی میسر نہ تھی۔نہ ڈاک کا انتظام تھا، نہ تار کا انتظام تھا، نہ شفاخانوں کا انتظام تھا، نہ خرچ کا انتظام تھا۔بس ان کے دل میں تبلیغ کا خیال آتا اور وہ اُسی وقت اٹھ بیٹھتے اور سینکڑوں ہزاروں میل پیدل سفر طے کرتے ہوئے غیر ملکوں میں تبلیغ کے لیے نکل جاتے۔یہ قربانیوں کا نمونہ ایسا شاندار ہے کہ ہم جب اس نمونہ کو دیکھتے اور اس کے مقابلہ میں اپنی قربانیوں کو رکھتے ہیں تو ہماری سمجھ میں ہی نہیں آتا کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کا قائمقام اللہ تعالیٰ نے ہمیں کیوں بنا دیا۔در حقیقت ہمیں صحابہ کا قائمقام بنانا ہی ہمیں اپنے نفس میں شرمندہ کرنے کے لیے کافی ہے۔بعض دفعہ کسی شخص کو شر مندہ کیا جاتا ہے تو کوئی بھاری کام اُس کے سپر د کر دیا جاتا ہے۔اس کے یہ معنے نہیں ہوتے کہ وہ شخص بڑا ہو گیا۔بلکہ اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ تم اپنے آپ کو بڑا سمجھا کرتے تھے لواب ایک بڑا کام ہم تمہارے سپرد کرتے ہیں تم اس کو کر کے دکھاؤ۔ایسے آدمی میں اگر چہ شرافت ہوتی ہے، ایسے آدمی میں اگر ایمان ہوتا ہے تو وہ اُسی وقت اللہ تعالیٰ کے حضور سجدے میں گر جاتا اور اس سے عاجزانہ دعا کرتا ہے کہ الہی تو نے مجھے اس ابتلاء میں تو ڈال دیا اب اپنے فضل سے میری عزت رکھ لے اور میرے ہاتھوں سے یہ کام کرا دے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وعدوں کو دیکھتے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کے اس سلوک کو دیکھتے ہوئے جو ہمارے ساتھ ہے، ہمیں یقین ہے کہ یہ ابتلاء ٹھو کر والا ابتلاء نہیں بلکہ اس کے ذریعہ ہمارے لیے کوئی بہت بڑی فضیلت مقدر ہے۔کیوں مقدر ہے ؟ شاید اللہ تعالیٰ یہ بتانا چاہتا ہے کہ پہلی قو میں ایسی تھیں جنہوں نے قربانیاں کر کے فتح حاصل کی۔باوجود اس کے کہ ان کے بانی شروع میں کمزور تھے ، دنیا ان کی مخالف تھی اور سخت سے سخت تکلیفیں اور مصیبتیں ان کو پیش آئیں۔مگر چونکہ ان کی جماعتوں نے بڑی بڑی قربانیاں کیں اس لیے دنیا نے کہا بے شک وہ نبی کمزور تھے، فتح کے سامان ان می کے پاس نہیں تھے مگر چونکہ انہیں ایسی جماعتیں مل گئیں جو قربانیاں کرنے والی تھیں اس می لیے انہیں فتح حاصل ہو گئی۔اگر ایسی قربانی کرنے والی جماعتیں اُن کو میسر نہ آتیں تو ان کو فتح میں اور کامیابی بھی حاصل نہ ہوتی۔پس چونکہ دنیا نے یہ اعتراض کیا اس لیے شاید اللہ تعالی اپنے لیے