خطبات محمود (جلد 25) — Page 217
$1944 217 محمود ایسی تعلیم دی جاسکتی ہے کہ دین کا کام اُن سے لیا جا سکے اور دین کے اُن حصوں میں جن میں دنیوی تعلیم محمد ہوتی ہے ان سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔مثلاً ڈاکٹروں کی ضرورت ہے۔ادنیٰ اقوام میں تبلیغ کے لیے ڈاکٹر بہت زیادہ مفید ہو سکتے ہیں۔بلکہ ان کے لیے ان سے زیادہ بہتر مبلغ کوئی نہیں ہو سکتا۔عیسائیوں نے ہسپتال کھول کر ہی چالیس لاکھ افراد کو عیسائی بنالیا ہے۔مدراس میں جو قریباً ایک ہزار سال تک مسلمانوں کے زیر نگین رہا مسلمانوں کا تناسب گل آبادی کا چھ فیصدی ہے مگر عیسائی بارہ فی صدی ہیں۔گویا ایک مسلمان کے مقابلہ میں دو عیسائی ہیں اور یہ ترقی انہوں نے صرف ایک صدی میں کی ہے۔کیونکہ ان کے ڈاکٹر اپنی زندگیوں کو خطرہ میں ڈال کر ان میں جاکر ہسپتال جاری کرتے اور ان کا علاج کرتے ہیں۔اور وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ جو ہم سے ہمدردی کرتے ہیں ہم بھی ان کی باتیں سنیں۔اور چونکہ عیسائیت کی دینی تعلیم نور نبوت سے متمتع ہے اس لیے مشرکانہ تعلیم کی نسبت اچھی ہے اور وہ لوگ جب اسے سنتے ہیں تو اس پر ایمان لے آتے ہیں۔لیکن ان کے بجائے اگر اسلامی ڈاکٹر اُن کا علاج کریں اور ساتھ اسلام کی سادہ اور مساوات کی تعلیم ان کے گوش گزار کریں تو بہت جلد کامیابی ہو سکتی ہے۔عیسائی مشنریوں نے ان کو عیسائی تو بنا لیا مگر ان میں مساوات قائم نہیں ہے کر سکے۔وہی چھوت چھات کے اثرات ابھی تک ہیں اور دوسری اقوام ان کو حقارت کی نظری سے دیکھتی ہیں۔مگر چونکہ اسلام میں جب ایک آدمی داخل ہوتا ہے تو ایسا لگا مسلمان بن جاتا ہے ہے کہ پہلی قومیت بالکل مٹ جاتی ہے اور کوئی مسلمان اس کے ساتھ کھانے پینے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا۔اسلامی تعلیم میں جو خوبیاں ہیں اگر ڈاکٹر اسے اونی اقوام کے لوگوں کے سامنے پیش کریں تو لاکھوں کی تعداد میں ان کو داخل اسلام کیا جا سکتا ہے۔پس ایسے نوجوان بھی اپنی زندگیاں وقف کریں جنہوں نے سائنس میں میٹرک پاس کیا ہو یا اس سال پاس ہونے کی امید ہو۔اسی طرح گریجوایٹ وغیرہ تاجو ڈاکٹری کے لیے مناسب ہوں اُنہیں ڈاکٹری کی تعلیم دلوا کر ادنی اقوام میں جن تک ابھی اسلام کا نور نہیں پہنچا تبلیغ کے لیے بھیجا جاسکے اور جو دوسرے کاموں کے لیے مناسب ہوں انہیں دوسرے کاموں کے لیے تعلیم دلائی جائے۔ہندو ان لوگوں کو ابھی تک ذلیل سمجھتے ہیں، ان سے چھوت چھات ہے