خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 211 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 211

خطبات محمود 211 $1944 یہی کریں کہ اس مدرسہ کو جسے آپ نے جاری فرمایا تھا بغیر کسی ایسے خطرہ کے جو حضرت ابو بکر کو در پیش تھا بند کر دیں اور آپ کے کام کو منسوخ کر کے ایک نیا نظام قائم کر دیں؟ اللہ تعالیٰ نے میری بات میں ایسا اثر دیا کہ اکثر احباب کے قلوب مل گئے۔بہت سوں کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور کئی کی چنیں نکل گئیں اور سب نے بالا تفاق آواز بلند کی کہ ہم ایسا کرنے کو تیار نہیں ہیں۔بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جس طرح یہ مدرسہ قائم فرمایا ہم اسے اُسی طرح رکھنا چاہتے ہیں۔یہ دیکھ کر خواجہ صاحب اپنی لسانی اور تجربہ اور علم کے باوجود ایسے گھبراگئے کہ انہوں نے جھٹ پہلو بدل کر کہا دوستوں نے میری بات کو سمجھا نہیں میرا مطلب کچھ اور تھا، میں دین کی تعلیم کو روکنا نہیں چاہتا تھا۔مگر جو کچھ انہوں نے سمجھانا چاہا ک نے اُس کو نہ سمجھا اور آخر خواجہ صاحب نے فرمایا کہ اب مناسب یہ ہے کہ بعد میں لکھ کر یہ تجویز چلی جائے اور جماعتیں آرام سے غور کر کے مشورہ دیں۔اُن کا مطلب یہ تھا کہ اب چونکہ یہ لوگ اُن کی رائے کے خلاف رائے کے ہو گئے ہیں اس لیے بعد میں کسی وقت بیرونی ہے جماعتوں میں یہ تجویز بھیج دیں گے اور اُن کا خیال تھا کہ لوگ اُن کی اِس رائے کے مطابق ہی مشورے دیں گے۔مگر اللہ تعالیٰ جس کو مامور بنا کر بھیجتا ہے اس کی جماعت ایسی کچی نہیں ہے ہوتی۔وقتی طور پر تو وہ دھوکے میں آسکتی ہے مگر مستقل طور پر دھوکے میں نہیں رہ سکتی۔چنانچہ دو تین ماہ کے بعد ان لوگوں کی طرف سے یہ تجویز بیرونی جماعتوں کو بھیجی گئی اور ہے 99 فیصدی جماعتوں نے یہی مشورہ دیا کہ ہم اس مدرسہ کو توڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قائم فرمایا۔لیکن مجھے افسوس ہے کہ حضرت مسیح موعود می علیہ السلام کے منشاء کو انجمن نے جس کے سپر د نظام کو چلانا ہے اور جس کے کاموں میں میں بہت ہی کم دخل دیا کرتا ہوں تا وہ اپنی ذمہ داری پر کام کو چلا سکیں پوری طرح پیش نظر نہیں ہیں رکھا اور ان کے ذہن سے بہت حد تک وہ پروگرام مستور ہو گیا۔انہوں نے مدرسہ کو جاری تو رکھا بلکہ میرے مشورہ سے کالج بھی قائم کر دیا مگر اس کے ساتھ ہی ان کے مد نظر یہ بات ہے بھی رہی کہ ان میں تعلیم پانے والے نوجوان مولوی فاضل کا امتحان پاس کر سکیں اور میں ڈگریاں حاصل کر سکیں تا سرکاری ملازمتیں حاصل کرنے میں ان کو آسانی ہو اور اس طرح ہے