خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 199 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 199

خطبات محمود 199 $1944 اس بات کا پہلے بڑا مقابلہ کیا اور کہا کہ ہم ہر گز گزارہ نہیں لیں گے۔لوگ مجھے کہتے کہ آخر آپ کیا کریں گے ؟ تو میں یہی کہتا کہ اگر اللہ تعالیٰ کو ہمیں بھوک رکھنا منظور ہے تو ہم بھوکے رہیں گے مگر جماعت سے گزارہ کے لیے کوئی رقم نہیں لیں گے۔یہاں تک کہ حضرت خلیفہ اول کو یہ بات معلوم ہوئی۔اس پر آپ نے مجھے بلایا اور فرمایا کہ میاں! خدا کا ایک الہام ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر نازل ہوا اور میں نے اس الہام کے یہ معنے نکالے ہیں اس لیے تم اس گزارہ کو قبول کر لو۔چنانچہ میں نے وہ گزارہ قبول کر لیا مگر وہ گزارہ اُس سے بہت کم تھا جو آجکل ہماری اولادوں کو ملتا ہے۔اُس وقت مجھے ساٹھ روپے ماہوار ملا کرتے تھے اور ہم نہ صرف میاں بیوی تھے بلکہ اُس وقت تک دو بچے بھی ہو چکے تھے اور ایک خادمہ بھی تھی۔اس کے علاوہ میں انہی روپوں میں سے دس روپے کے قریب دینی کاموں میں خرچ کر تا تھا۔گویا پچاس روپیہ میں ہم گزارا کیا کرتے تھے۔لیکن میرے دل میں اُس وقت یہ کبھی خیال پیدا نہیں ہوا کہ ہمیں گزارہ کم ملتا ہے۔ہماری جائیداد بے شک تھی لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام چونکہ جائیداد کی طرف توجہ نہیں کیا کرتے تھے اس لیے ہمیں بھی پتہ نہیں تھا کہ وہ جائیداد کیا ہے اور کتنی قیمت کی ہے۔بعد میں وہ جائیداد خدا تعالیٰ کے فضل سے لاکھوں روپیہ کی ثابت ہوئی اور باوجود اس کے کہ بہت سی جائیداد ہم بیچ کر کھا چکے ہیں اب بھی اگر سب بھائیوں میں وہ جائیداد تقسیم کی جائے تو ہر ایک کا لاکھ بلکہ ڈیڑھ ، ڈیڑھ لاکھ روپیہ کا حصہ نکل سکتا ہے۔حالانکہ چار پانچ لاکھ روپیہ کی جائیداد ہم پیچ چکے ہیں۔تو یہ چیز موجود تھی مگر ہمیں اس کا پتہ نہیں تھا اور نہ اس جائیداد کی قیمت کا ہمیں کوئی علم میں تھا۔نہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جائیداد سے کوئی واسطہ رکھا اور نہ ہمیں اِس کی طرف کوئی توجہ پیدا ہوئی۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایسے ذرائع سے روپیہ دینا شروع کر دیا جو میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھے۔لوگ جہاں مجھے پر مختلف اعتراضات کیا کرتے ہیں مگر میں ان اعتراضات کی پروا نہیں کیا کرتا وہاں مالی معاملات میں جب بھی مجھ پر کوئی اعتراض کیا گیا ہے ہے میں نے دلیری سے کہا ہے کہ تم مجھ سے پائی پائی کا حساب لے لو۔میں تمہیں بتانے کے لیے تیار ہوں کہ میری جائیداد کس طرح بنی ہے۔اور یہ تمام باتیں زبانی نہیں بلکہ رجسٹروں