خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 194 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 194

$1944 194 خطبات محمود باہر ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں تھا۔وہ مسجد اس موجودہ مسجد کا غالباً دسواں حصہ ہو گی۔تو دیکھو اللہ تعالیٰ کا یہ کتنا بڑا فضل ہے کہ لوگوں کی مسجدیں خالی پڑی رہتی ہیں اور ہم اپنی مساجد کو بڑھاتے ہیں تو وہ اور تنگ ہو جاتی ہیں۔یہاں تک کہ لوگوں کو مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے جگہ نہیں ملتی۔ހނ مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں صرف ایک ہی فعل مجھے۔ایسا ہوا جس سے میں سخت ڈرا۔اس میں میری ہی غلطی تھی اور میں فوری طور پر پکڑا گیا۔لیکن میں خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ میری جلد ہی بریت ہو گئی۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو گردہ میں درد تھا اور آپ جمعہ پڑھنے کے لیے تشریف نہ لاسکے۔میری اُس وقت پندرہ سولہ سال کی عمر تھی۔میں جمعہ کی نماز پڑھنے کے لیے گھر سے نکلا اور مسجد کو آنے لگا۔جب میں موڑ تک پہنچا تو ایک احمدی دوست مجھے ملے جو واپس جارہے تھے۔میں نے اُن سے کہا کہ آپ واپس کیوں جارہے ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ مسجد میں بیٹھنے کے لیے کوئی جگہ نہیں۔میری جو شامت آئی تو بغیر اس کے کہ میں آگے بڑھ کر تحقیق کر لیتا کہ آیا واقع میں مسجد لوگوں سے بھری ہوئی ہے یا نہیں اور وہاں کھڑے ہونے میں با بیٹھنے کی جگہ ہے یا یہ شخص یو نہی کہہ رہا ہے، وہاں سے واپس چلا گیا اور ظہر کی نماز گھر میں ہے پڑھنی شروع کر دی۔یہ اللہ تعالی کا احسان ہے کہ میں چھوٹی عمر سے ہی نمازوں کا پابند ہوں اور ہے میں نے آج تک ایک نماز بھی کبھی ضائع نہیں کی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مجھے سے کبھی یہ دریافت نہیں فرمایا کرتے تھے کہ تم نے نماز پڑھی ہے یا نہیں پڑھی۔مجھے یاد ہے جب میں گیارھویں سال میں تھا تو ایک دن میں نے صفحی یا اشراق کے وقت وضو کر کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کوٹ پہنا اور خدا تعالیٰ کے حضور میں خوب رویا اور میں نے عہد کیا کہ میں آئندہ نماز کبھی نہیں چھوڑوں گا۔خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس عہد اور اقرار کے بعد میں نے کبھی کوئی نماز نہیں چھوڑی۔لیکن پھر بھی چونکہ میں بچہ تھا اور بچپن میں کھیل گود کی وجہ سے بعض دفعہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے میں سستی ہو جاتی ہے اس لیے ایک دفعہ کسی نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس میری شکایت کی کہ آپ اسے می