خطبات محمود (جلد 25) — Page 183
$1944 183 خطبات محمود یا مرزا غلام احمد ! یہ مجھے دیں۔وہ جاہل اور اسلامی تعلیم سے قطعاً نا واقف ہے۔اُس نے سمجھا ہی نہیں کہ اسلام کیا چیز ہے۔اسلام تو کہتا ہے کہ صرف خدا ہی زندہ ہستی ہے باقی سب فوت ہونے والے ہیں۔پس کسی قبر والے سے دعا مانگنا ہر گز جائز نہیں خواہ وہ نبی ہو یا ولی۔ہاں یہ ایک قدرتی بات ہے کہ جب صاحب مزار کی قبر پر کھڑے ہو کر انسان دعامانگتا ہے تو اُس تعلق کی وجہ سے جو اُسے صاحب قبر سے ہوتا ہے۔اُس کے دل میں زیادہ رفت پیدا ہوتی ہے اُس کے دل میں زیادہ جوش پید اہوتا ہے اور اس رقت اور جوش سے فائدہ اٹھا کر وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کو زیادہ بھر کا سکتا ہے۔پس یہ فائدہ ہے جو قبر پر دعا کرنے سے حاصل ہو سکتا ہے ورنہ یہ تو ہم جانتے ہیں کہ قبر میں جو دفن تھاوہ مٹی ہو چکا اور اُس کا جسم فنا ہو گیا۔اُس سے کچھ مانگنا انتہائی حماقت اور پاگل پن ہے۔میں اس بات کا قائل نہیں ہوں کہ نبیوں کے جسم محفوظ رہتے ہیں۔جو چیز مٹی سے بنی ہوئی ہے میرے نزدیک وہ بہر حال مٹی ہو جاتی ہے خواہ وہ نبیوں کا جسم ہی کیوں نہ ہو۔بائبل میں صاف لکھا ہے کہ حضرت یعقوب اور حضرت یوسف علیہما السلام کی ہڈیاں مصر سے کنعان میں لائی گئی تھیں۔12 پس میں عوام الناس کے اس خیال کا قائل نہیں کہ نبیوں کے میں جسموں کو مٹی نہیں کھاتی۔میرے نزدیک یہ بالکل لغو خیال ہے۔آخر نبی بوڑھے ہوتے ہیں یا چی نہیں؟ بیماری آئے تو اس سے کمزور ہوتے ہیں یا نہیں؟ جب وہ عام انسانوں کی طرح بوڑھے ہوتے ہیں، کمزور ہوتے ہیں، بیمار ہوتے ہیں تو کیا دلیل ہے کہ مٹی اُن کے جسم کو نہیں کھا سکتی۔پس یہ ایک غلط خیال ہے جو مسلمانوں میں پایا جاتا ہے۔مگر بہر حال یہ امر انسانی فطرت میں ہے داخل ہے کہ جب وہ اُس جگہ جاتا ہے جہاں اُس کا محبوب اور پیارا مد فون ہوتا ہے تو اُس پر زیادہ رقت طاری ہوتی ہے اور وہ زیادہ جوش اور زیادہ گریہ و زاری سے خدا سے دعائیں کرتا ہے کہ یہ الہی ! تو ان وعدوں کو پورا فرما جو تو نے اس شخص سے کیے تھے۔دوسرے جس جگہ اللہ تعالیٰ کے نبی دفن ہوں خواہ اُن کے جسم مٹی ہو گئے ہوں پھر بھی اللہ تعالی کی یہ سنت ہے کہ وہ ان مقامات پر اپنی برکتیں نازل کرتا ہے اور ان مقامات کی تین ہتک کرنے والوں کو اپنے عذاب کا نشانہ بناتا ہے۔دیکھ لو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو یہ