خطبات محمود (جلد 25) — Page 173
$1944 173 خطبات محمود میں بار بار ان کے پاس جاتا انہیں دعائیں سکھاتا کہ یہ یہ دعائیں اس وقت مانگو۔پھر جب میں واپس آجاتا تو تھوڑی دیر کے بعد اسی گھبراہٹ میں اپنے ماموں (یعنی ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب) کو بھیج دیتا کہ آپ جائیں اور انہیں قرآن شریف سنائیں۔جب ان کا آخری وقت تھا، اُس وقت دہلی کا ایک اور تعلق بھی ظاہر ہو گیا۔یعنی اُس وقت ڈاکٹر عبد اللطیف صاحب دہلی والے ان کو آکسیجن سونگھار ہے تھے۔پھر یہ جو میں نے دیکھا کہ صبیح بشیر احمد صاحب آئے ہیں اور انہوں میں نے وفات کی اطلاع دی ہے مگر ساتھ ہی کہا ہے کہ ان کا دل مطمئن تھا اور انہیں کوئی تکلیف نہ تھی یہ بھی پورا ہوا۔چنانچہ جب انہوں نے آخری سانس لیا تو میاں بشیر احمد صاحب میرے پاس آئے۔اُس وقت اُن پر رقت طاری تھی۔وہ مجھ سے بولے نہیں۔صرف انہوں نے سر سے اشارہ کیا کہ اندر چلے جاؤ۔مگر وہ کہتے ہیں جب میں باہر نکلا تو اس وقت یہ گہرا اثر تھا کہ اتم طاہر کے دل پر موت کا کوئی اثر نہیں اور نہایت اطمینان کی حالت میں انہوں نے آخری سانس لیے ہیں۔یہاں تک کہ آخری تشنج جو عام طور پر مریض پر وارد ہوتا ہے وہ بھی نہیں ہے ہوابلکہ آہستگی سے سانس لیتے ہوئے وہ فوت ہو گئیں۔یہ خدا تعالیٰ کا کس قدر احسان ہے کہ اس نے اگر ایک طرف سے ہم کو صدمہ پہنچایا ہے تو دوسری طرف اپنی ہستی کا ایک زبر دست ثبوت مہیا کر کے ہمارے دلوں کو اطمینان بھی بخشا فَالْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ العلمين اصل بات یہ ہے کہ مجھے اگر کسی چیز سے ان کی وفات کے وقت گھبراہٹ تھی تو وہ یہ تھی کہ لمبی بیماری کے نتیجہ میں بعض دفعہ انسان کے ایمان میں کمزوری پیدا ہو جاتی ہے۔وہ یہ نہیں سمجھتا کہ یہ خدا نے اُس کی بخشش کا سامان کیا ہے اور اُس نے چاہا ہے کہ اسی دنیا میں اسے گناہوں سے صاف کر دے اور ہر قسم کی آلائشوں سے پاک کر کے اپنے دربار میں لائے۔وہ یہ سمجھتا ہے کہ خدا نے اُس پر سختی کی ہے۔پس میرے دل میں یہ کرب تھا جس کی وجہ سے میں ان کے لیے دعا بھی کرتا اور ان کی آخری گھڑیوں میں انہیں بار بار یہی نصیحت کرتا کہ دیکھو ذکر الہی کرو، اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کرو۔میں اس وقت دُعا کرتا ہوں تم بھی اللہ تعالیٰ سے اپنے دل میں دعائیں مانگو۔میں نے اس وقت یہ بھی سمجھا کہ اگر اس وقت سورہ یسین پڑھی یہ