خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 16 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 16

$1944 16 خطبات محج محمود خوبصورت ہو، تمہارا رنگ سفید ہے، تمہارے نقش اچھے ہیں تو تم اپنے دوست کو تو خو بصورت نظر آؤ لیکن دشمن کو خوبصورت نظر نہ آؤ؟ اگر تمہارے اندر حسن پایا جاتا ہے تو وہ ہر شخص کو نظر آئے گا، چاہے وہ تمہارا واقف ہو یا نا واقف۔اسی طرح اگر تمہارے گھر میں گند ہو گا تو یہ نہیں ہو گا کہ وہاں اگر تمہارا دشمن آجائے تو اس کا دماغ تو گند سے پھٹنے لگے لیکن تمہارے دوست کو گند محسوس نہ ہو۔یقیناً جس طرح تمہارے دشمن کا دماغ پھٹے گا اُسی طرح اس گند سے تمہارے دوست کا دماغ بھی پھٹے گا۔اسی طرح اگر تمہارے پاس خوشبو ہے تو وہ ہر ایک کو آئے گی۔یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ دوست کو آئے اور دشمن کو نہ آئے۔اگر خوشبو تم میں اور تمہارے غیر میں امتیاز نہیں کر سکتی تو یہ کس طرح ممکن ہے کہ تمہارے دل میں ایمان پایا جائے اور پھر تم زید سے اور سلوک کرو اور بکر سے اور سلوک کرو، مسلمانوں سے اور رنگ میں پیش آؤ اور ہندوؤں، سکھوں اور عیسائیوں سے اور رنگ میں پیش آؤ۔اگر تمہارے دل میں ایمان ہو گا، اگر تم واقع میں با اخلاق ہو گئے اور اگر تم حقیقت میں اپنے اندر نیکی اور تقوی رکھتے ہے ہوگے تو تمہاری نیکی کی خوشبو جس طرح تمہارے دوست کے ناک میں جائے گی اُسی طرح تمہارا دشمن بھی اس سے متاثر ہو گا۔لیکن اگر ایسا نہیں، اگر تمہارا دشمن تمہارے اندر اعلی منی اخلاق نہیں دیکھتا، اگر تمہارے حسن سلوک کا وہ کوئی مشاہدہ نہیں کرتا تو اس کے معنے یہ ہیں کہ تمہارے اندر ایمان نہیں پایا جاتا۔ورنہ کس طرح ممکن ہے کہ ایک ہی شیشی کا منہ جب دوستوں کی طرف ہو تو انہیں اس میں سے خوشبو آئے اور جب اس کا منہ دشمنوں کی طرف کر دیا جائے تو انہیں اس سے بد بو محسوس ہو۔پس اخلاق کی درستی نہایت ہی ضروری چیز ہے اور ہماری جماعت کے دوستوں کو اس طرف توجہ کرنی چاہیے۔یاد رکھو! اخلاق کے بغیر تم میں کبھی وہ مضبوطی اور وہ جرآت پیدا نہیں ہو سکتی جو اسلام می پیدا کرنا چاہتا ہے۔مومن تو اپنے ایمان میں ایسی پختگی رکھتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے دین کے لیے ہر قربانی کرنے کے لیے تیار رہتا ہے۔زمین و آسمان ٹل سکتے ہیں لیکن اس کی قربانی کے ارادے نہیں مل سکتے کیونکہ می وہ غیر متزلزل ہوتے ہیں۔جیسے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ احد پہاڑ کے متعلق اگر تم سنو کہ وہ ہے اپنی جگہ سے بدل گیا ہے تو اسے تسلیم کر لو لیکن تم اس بات کو کبھی تسلیم نہ کرو کہ کسی شخص کی فطرت اور می