خطبات محمود (جلد 25) — Page 122
خطبات محمود 122 $1944 تمہارے سامنے پیش کیا جائے اور تم اس کو ر ڈ کر دو۔اور اگر تم اس کو ر ڈ کر دیتے ہو تو اس کے سوائے اس کے اور کوئی معنی نہیں کہ تمہیں اعتبار ہی نہیں کہ جو چیز تمہارے سامنے پیش کی جا رہی ہے وہ ایک خزانہ ہے۔نہ صرف تمہارے لیے ، نہ صرف تمہاری نسلوں کے لیے بلکہ قیامت تک آنے والے تمام لوگوں کے لیے بھی۔پس اپنی روحانی بینائی کو درست کرو اور دین کا خزانہ جو تمہارے سامنے ہے اُس کی عظمت اور اہمیت کو سمجھو۔پھر تمہیں وہ انعامات بھی حاصل ہو جائیں گے جو تم سے پہلے لوگوں کو حاصل ہوئے۔میں نے بتایا ہے تمہارے لیے ایک ضروری امر یہ ہے کہ یہاں مجلس میں جو باتیں ہوتی ہیں، ان کو سنو۔پھر سُن کر یا د رکھو اور یادر رکھنے کے بعد عمل کرنے کی کوشش کرو۔بلکہ جب تمہیں موقع ملے ان باتوں کو رسالہ کی صورت میں چھپوا دو۔لاہور کے آدمیوں کا فرض ہونا چاہیے کہ وہ خصوصیت سے اس کے کی مضامین کو یاد رکھیں، دوسروں کو سنائیں اور بار بار اُن کو اپنے مطالعہ میں لائیں۔اس طرح دینی امور کی اہمیت بھی ان کے دلوں میں پیدا ہو جائے گی اور صحابہ کے مقام تک پہنچانے والے ہیں اعمال بھی ان سے صادر ہونے شروع ہو جائیں گے۔اگر یہ بات نہیں تو یوں ہی مجلس میں بیٹھ جانا اور باتوں سے مزہ حاصل کرنا اور عمل کے لیے کوئی قدم نہ اٹھانا ایک لغو چیز ہے اور یہ داستانِ امیر حمزہ سننے والی بات ہے۔دتی اور لکھنو میں داستانِ امیر حمزہ لوگ بڑے شوق سے سنتے بلکہ بعض دفعہ رات کے دو دو بجے تک سنتے رہتے ہیں۔وہ اسے سنتے وقت سُبحَانَ اللہ بھی کہتے ہیں، اسْتَغْفِرُ الله بھی کہتے ہیں۔ان کے دل بھی اُس وقت جھوم رہے ہوتے ہیں مگر جب وہاں سے اٹھتے ہیں تو بالکل خالی ہاتھ ہوتے ہیں، نہ اُن کے دلوں پر کوئی اثر ہوتا ہے اور نہ ان می کے جوارح پر کوئی اثر ہوتا ہے۔پس جب تک دین کی باتوں پر سنجیدگی کے ساتھ غور نہ کیا جائے اُس وقت تک ہے خدا تعالیٰ کا قرب حاصل نہیں ہو سکتا، اس وقت تک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قرب حاصل نہیں ہو سکتا، اس وقت تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا قرب حاصل نہیں ہو سکتا بلکہ وہ تو وفات یافتہ ہیں۔اُس وقت تک ہماری مجلس میں بیٹھنے والے بھی ہم سے کوئی فائدہ حاصل نہیں کر سکتے۔وہ بظاہر ہماری مجلس میں بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں لیکن وہ ہم سے