خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 113 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 113

$1944 113 خطبات محمود بہت زیادہ آسان ہے۔پس اگر انسان سچا اخلاص اور سچی محبت رکھنے والا ہو تو اُسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کرنے اور آپ کی صحبت سے فائدہ اٹھانے اور آپ سے باتیں کرنے کے اس دنیا میں بھی کئی مواقع نصیب ہو سکتے ہیں اور جب بھی اسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہو جائے گی یا آپ سے کوئی کلام سننے کی اسے می سعادت حاصل ہو جائے گی وہ اُسی وقت آپ کا صحابی بن جائے گا۔جیسے امت محمدیہ میں بہت سے لوگ ایسے گزرے ہیں جنہوں نے کہا کہ ہمیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی اور آپ نے ہم سے باتیں کیں وہ لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بھائی بھی ہے تھے مگر چونکہ محبت کے جوش کی وجہ سے وہ چاہتے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے زیارت بھی ان کو نصیب ہو جائے اس لیے خدا نے ان کی خواہش کو پورا کر دیا اور انہیں ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ملاقات میسر آگئی اور وہ علاوہ بھائی ہونے کے آپ کے صحابی بھی ہو گئے۔یہ خواہش آج بھی پوری ہو سکتی ہے بلکہ آج اس خواہش کے پورا ہونے کے سامان بدرجہ اتم موجود ہیں۔اس لیے کہ پچھلے لوگوں کو خدا تعالیٰ کے قرب میں بڑھنے کا وہ موقع نہیں ملا جو آج لوگوں کو مل رہا ہے۔آج خدا تعالیٰ کا زندہ کلام حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر نازل ہوا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام وہ انسان ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قرب میں اس قدر بڑھے کہ آپ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک ہو گئے۔آپ سے پہلے اسلام پر جو مُردنی چھائی ہوئی تھی اور جس طرح اسلام کا تجزیہ ان کے ہاتھوں ہو رہا تھا اُس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ مسلمانوں کی وحدت مٹ چکی تھی ان کا اتحاد کسی ایک نقطہ مرکزی پر نہیں رہا تھا بلکہ ہندوستان میں مسلمانوں کا کوئی فرقہ کام کر رہا تھا تو ایران میں مسلمانوں کا کوئی اور فرقہ اپنے رنگ میں اسلام کی خدمت سر انجام دے رہا تھا، عرب میں مسلمان کسی اور فرقہ کی طرف اپنے آپ کو منسوب کر رہے تھے تو شام اور مصر کے مسلمان کسی اور فرقہ میں داخل تھے حالانکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم صرف ہندوستان کے رسول نہیں تھے ، صرف ایران کے رسول نہیں تھے ، صرف عرب کے رسول نہیں تھے ، صرف شام اور مصر کے رسول نہیں تھے بلکہ ساری دنیا کے رسول تھے۔جس طرح رب العالمین کی حکومت