خطبات محمود (جلد 24) — Page 73
$1943 73 خطبات محمود چھوتا ہے یا دیکھتا ہے یا کسی سے ملتا ہے اور باتیں کرتا ہے اسی طرح کشف اور خواب میں یہی کیفیات پیدا ہوتی ہیں۔لیکن اس وقت انسان کے ظاہری حواس کام نہیں کر رہے ہوتے بلکہ ایک چھٹی حس پیدا ہو کر غیر محسوس چیزوں کو دیکھنے لگ جاتی ہے۔اسی طرح مرنے کے بعد انسان میں ایک چھٹی حس پیدا ہو گی جس سے کہ دور ہونے کے باوجود خدا تعالیٰ قریب نظر آئے گا اور باوجو د وراء الورا ہونے کے انسان اپنے آپ کو اسے دیکھنے یا چھونے یا اس سے باتیں کرنے کے قابل پائے گا۔یہی حس اگر ہمیں خواب میں نہ ملتی تو قیامت پر شاید لوگ ایمان نہ لاتے۔کشف اور خواب میں ان نظاروں کے دیکھنے سے ہم قیاس کر لیتے ہیں کہ جو طاقت بینائی خواب میں خدا تعالیٰ ہمیں عارضی طور پر دیتا ہے کیا اس میں یہ طاقت نہیں کہ وہ مرنے کے بعد مستقل طور پر دے دے اور جو طاقت ہمیں ایک گھنٹہ کے لئے ملتی ہے وہ ہمیشہ کے لئے عطا کر دے۔پس چونکہ قربانی کے گوشت پوست یہیں رہ جائیں گے اس لئے فرمایا يَنَالُهُ التَّقْوی۔اس وقت جب تم خدا سے ملو گے تو یہ دنبہ یا مینڈھایا گائے جو تم نے ذبح کی ہے وہ تو چھلکا ہے وہ یہیں رہ جائے گا۔ہاں قربانی جس ارادہ سے کی تھی، جس اخلاص اور سچے دل سے کی تھی اس کا ایک نشان دل پر رہ جائے گا اور گنے کے رس کی طرح رہ جائے گا۔پھر اس رس کو لے کر خدا کے حضور پیش کرے گا۔وہ ظاہری گوشت پوست تو دنیا میں رہ جائے گا، کہیں کھاد بن جائے گا اور فنا ہو جائے گا مگر اس کا رس جو اخلاص ہے وہ قائم رہے گا اور قیامت کے دن اپنے دل کے پیالے سے مثلاً ایک قطرہ نکالو گے اور کہو گے کہ حضور یہ میرے روزے ہیں۔پھر ایک اور قطرہ نکال کر پیش کرو گے اور کہو گے کہ یہ میری نمازیں ہیں۔پھر ایک اور قطرہ نکال کر کہو گے کہ یہ میرا حج ہے۔غرض وہ چیزیں ایک ایک کر کے پیش کرو گے۔نماز، روزہ اور حج کا چھلکا ساتھ نہ ہو گا بلکہ ان کا محفوظ کیا ہوا مغز ایک نئی شکل میں پیش کرو گے۔جس طرح گنے کو کھانڈ کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے۔بظاہر گنا سال بھر نہیں رہ سکتا لیکن اس سے بنی ہوئی کھانڈ دس، ہیں ، پچاس سال بلکہ ہزار سال تک بھی رہ سکتی ہے۔اسی طرح خدا تعالیٰ نے انسانی قلب میں ایک برتن رکھا ہے جس میں عمل کا رس ٹپکتا ہے۔اس کا عمل صالح ، اس کا تقویٰ اس میں پڑتا