خطبات محمود (جلد 24) — Page 298
* 1943 298 خطبات محمود سہ لینے والوں کی تعداد شروع سے پانچ ہزار کے ارد گرد گھوم رہی ہے۔کبھی یہ تعداد ساڑھے چار ہزار ہو جاتی ہے، کبھی ساڑھے پانچ ہزار ہو جاتی ہے اور کبھی پانچ ہزار ہو جاتی ہے۔جو لوگ اس تحریک میں حصہ لینے کا وعدہ کرتے ہیں چونکہ سال کے آخر تک ان میں سے کچھ پیچھے ہٹ جاتے اور اپنے وعدوں کو پورا نہیں کر سکتے اس لئے جب وعدوں کا وقت آتا ہے تو یہ تعداد پانچ ہزار سے اوپر چلی جاتی ہے لیکن جب ادا ئیگی کا وقت آتا ہے تو یہ تعداد کبھی پانچ ہزار ہو جاتی ہے اور کبھی پانچ ہزار سے بھی نیچے چلی جاتی ہے۔اس وقت تک وہ لوگ جنہوں نے اس تحریک میں حصہ لیا اور جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئی کے مطابق خدا تعالیٰ کے سپاہی کہلانے کے مستحق ہیں وہ پینتالیس سو اور پانچ ہزار کے درمیان ہیں۔شاید وہ جو ابھی تک اپنے وعدے پورے نہیں کر سکے یا وہ جو اب تک اپنی سستی اور غفلت کی وجہ سے اس میں حصہ نہیں لے سکتے مگر اب وہ اس میں شامل ہونے کا ارادہ رکھتے ہوں یا وہ جو نئے سال سے اس تحریک میں شامل ہو جائیں ان سب کو ملحوظ رکھتے ہوئے شاید یہ تعداد پوری ہو جائے بلکہ شاید نہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے یقیناً یہ سب مل کر اس تعداد کو پورا کر دیں گے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیشگوئی میں معین کی گئی ہے اور اس طرح ایک اور ثبوت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کا مل جائے گا کہ کس شان اور عظمت کے ساتھ آپ کی یہ پیشگوئی پوری ہوئی۔آخر یہ کس بندے کی طاقت میں تھا کہ وہ اسلام کی خدمت کے لئے جماعت میں سے پانچ ہزار نفوس کو کھڑا کر دیتا۔اگر ہمیں دس ہزار آدمی چندہ دیتے تو ہم نے ان کے چندوں کو اس بناء پر رد نہیں کر دینا تھا کہ پیشگوئی میں صرف پانچ ہزار آدمیوں کا ذکر آتا ہے اور اگر میری اس تحریک کے نتیجہ میں جماعت کے دلوں میں ایسا جوش اور اخلاص پیدانہ ہو تا کہ پانچ ہزار آدمی چندہ دینے کے لئے کھڑے ہو جاتے بلکہ صرف دو یا تین ہزار آدمی اس تحریک میں حصہ لیتے تو ہمارے پاس اس تعداد کو پانچ ہزار تک پہنچانے کا کیا ذریعہ تھا۔ہم نے یہ تحریک طوعی رنگ میں کی تھی اور اس میں شامل ہونا ہر شخص کی اپنی خوشی اور مرضی پر منحصر رکھا تھا۔مار کر ، پیٹ کر اور سزا دے کر اس میں کسی کو شامل نہیں کرنا تھا۔پس اگر یہ خدائی ہاتھ نہیں تو اور کیا ہے کہ ایک دس سالہ تحریک کا آغاز کیا جاتا ہے اور اعلان کیا جاتا ہے کہ جو