خطبات محمود (جلد 24) — Page 280
$1943 280 خطبات محمود فیصلہ کر دیا کہ جب حکومت کے اپنے اعلان کی رو سے ہم آزاد ہیں تو لو آج سے ہم اپنے لئے آپ قانون بناتے ہیں۔چنانچہ اس غرض کے لئے پارلیمنٹ میں بھی ایک بل پیش کر دیا گیا۔یہ یکھ کر فرانس کی وہ آزادی کی کمیٹی جس کے ماتحت وہ آگئے تھے اس نے ان کو دبانا شروع کر دیا کہ تمہیں اپنے ملک کا قانون بنانے کا کس نے اختیار دیا ہے اور تمہارا حق ہی کیا ہے کہ تم اس قسم کی باتیں کرو۔بے شک ہمارے اعلان کے مطابق تم آزاد ہو مگر اس آزادی کی تعبیر بتانا ہمارا کام ہے۔تمہارا حق نہیں کہ آپ ہی آپ آزادی کا ایک مفہوم لے لو اور اس کے مطابق اپنے ملک کا آئین مرتب کرنے لگ جاؤ۔تمہاری آزادی کی تعبیر ہمارے سپر د ہے۔تم کہاں سے یہ حق لے کر آگئے ہو کہ اپنے متعلق آپ قانون بناتے پھرو۔پھر ہم نے کل ایک اور خبر پڑھی جو عجیب قسم کی ہے۔دنیا کے تمام آزاد ممالک کا یہ طریق ہے کہ ان کی طرف سے ہمیشہ اس قسم کے اعلانات ہوتے ہیں کہ وزیر اعظم نے یا وزارت نے اتنے لوگوں کو قید کر لیا۔وہ قید کرنا جائز ہوتا ہے یا ناجائز اس پر یہاں بحث نہیں۔کبھی وزارتوں کی طرف ظلم بھی ہوتا ہے اور کبھی عدل و انصاف کے ماتحت وہ مجرموں کو قید کرتے ہیں لیکن بہر حال اعلانات یہ ہوتے ہیں کہ وزیروں نے اتنے لوگوں کو پکڑ لیا یا فلاں وزارت نے اتنے لوگ گرفتار کر لئے۔مگر کل ہم نے یہ عجیب خبر پڑھی کہ آزاد لبنان کے وزیروں کو پکڑ کر قید کر لیا گیا ہے۔بے شک یہ مضحکہ خیز باتیں ہیں مگر یہ ساری کی ساری اسی امر کی طرف توجہ دلاتی ہیں جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان الفاظ میں پیش کیا کہ یہ حکم سن کے بھی جو لڑائی کو جائے گا وہ کافروں سے سخت ہزیمت اٹھائے گا1 آج مسلمانوں اور ایشیائیوں کے لئے دنیا کے پردہ پر قطعاً لڑائی کا وقت نہیں (لبنانی اکثر مسیحی ہیں لیکن مسلمانوں کے ساتھ رہنے کی وجہ سے ان پر بھی مسلمانوں ہی کا قانون چسپاں ہوتا ہے وہ اکیلے نہیں جیت سکتے۔مسلمانوں کے ساتھ مل کر ہی جیت سکتے ہیں ) آج ایک ہی ذریعہ ان کے لئے باقی ہے کہ وہ دشمن کے قلب پر حملہ کر کے اسے فتح کریں یعنی تبلیغ اور