خطبات محمود (جلد 24) — Page 26
$1943 26 خطبات محمود پچیس پچھیں ، تیس تیس، چالیس چالیس ہزار روپیہ ہے مگر اُن کا چندہ دیکھا جائے تو کسی کا پچاس روپیہ ہوتا ہے، کسی کا ساٹھ ، کسی کا سو اور کسی کا دو سو۔گویاوہ اپنی ایک مہینہ کی آمد کا دسواں حصہ بلکہ بعض دفعہ پچاسواں حصہ خدا تعالیٰ کی راہ میں دیتے ہیں۔جو در حقیقت ان لوگوں کے چندے کی نسبت جو ملازم پیشہ ہیں قربانی کے لحاظ سے سواں حصہ ہوتا ہے یعنی ایک ملازم جس رغبت اور اخلاص اور محبت سے قربانی میں حصہ لیتا ہے تاجر اس کے مقابلہ میں خدا تعالیٰ کے رجسٹر میں سواں بلکہ دو سواں حصہ لیتا ہے۔بے شک ہماری جماعت میں ایسے تاجر بھی ہیں جو اپنی آمدنیوں کے مطابق بلکہ بعض دفعہ اپنی آمدنی سے بہت زیادہ قربانی کرتے ہیں مگر وہ مستقی ہیں۔زیادہ تر ہماری جماعت میں ایسے ہی تاجر ہیں جو اپنی ذمہ داری کو محسوس نہیں کرتے اور تو کل کی کمی کی وجہ سے وہ اسی خیال میں رہتے ہیں کہ اگر آج خدا تعالیٰ کی راہ میں کچھ دے دیا تو گل کیا ہو گا۔حالانکہ جو شخص خدا تعالیٰ کے لئے قربانی کرتا ہے اُس کی قربانی کبھی رائیگاں نہیں جاتی اور اسے خدا تعالیٰ دین اور دنیا دونوں میں بدلہ دے دیتا ہے۔پس جو لوگ تاجر ہیں یانٹے ملازم ہوئے ہیں مگر اب تک انہوں نے اس تحریک میں حصہ نہیں لیا ان کو میں پھر توجہ دلاتا ہوں کہ اب دن بہت تھوڑے رہ گئے ہیں۔تحریک جدید کا یہ دور اب اپنے آخری مقام تک پہنچنے والا ہے۔یہ نواں سال ہے۔اگلا سال تحریک جدید کا دسواں اور آخری سال ہو گا۔اس کے بعد یہ تحریک اپنی موجودہ شکل میں ختم ہو جائے گی اور ہم خدا تعالیٰ سے کسی اور راستہ کے امیدوار ہوں گے جو قربانی اور اخلاص اور ایمان کا رستہ ہو گا۔اور جس پر چل کر ہر مومن اپنے رب کی رضا حاصل کر سکے گا۔مگر بہر حال اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ اس قسم کی تحریک صدیوں میں کوئی ایک تحریک ہی ہوا کرتی ہے اور اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ حضرت سیح موعود علیہ السلام کا دور ایک یاد گارِ زمانہ دور ہے جس کی تمام انبیاء و مرسلین نے حضرت نوح علیہ السلام سے لے کر رسول کریم صلی علی کم تک خبر دی ہے اور اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ آپ کے کام کو مضبوط کرنے اور اشاعت اسلام اور اشاعت احمدیت کی بنیادوں کو پختہ کرنے میں جو شخص حصہ لیتا ہے وہ اپنے آپ کو اس تاریخی دور میں شامل کرتا ہے جو قیامت کے دن بہت سی جماعتوں پر جو آج نظر آرہی ہیں ہماری جماعت کو زیادہ اہمیت دینے