خطبات محمود (جلد 24) — Page 25
$1943 25 خطبات محمود اُن کو بھی میں توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے وعدے اپنی آمدنیوں کے مطابق کر لیں۔میں نے اس کے متعلق کوئی حد بندی نہیں کی کیونکہ ہر شخص کی آمدن اُس کے حالات کے ماتحت مختلف ہوتی ہے۔کسی شخص کی آمد تھوڑی ہوتی ہے مگر اُس کے اخراجات اُس تھوڑی آمد سے بھی بہت کم ہوتے ہیں۔اور کسی شخص کی آمد بظاہر زیادہ ہوتی ہے مگر اس کے اخراجات اس آمد سے بہت زیادہ ہوتے ہیں۔پس ہم نہیں کہہ سکتے کہ کوئی شخص کس حد تک قربانی کر سکتا ہے۔اس بارہ میں ہر شخص اپنے ایمان اور اپنے اخلاص کے مطابق خود ہی فیصلہ کر سکتا ہے اور اسی پر اس فیصلہ کا چھوڑ دینا زیادہ مناسب ہوتا ہے۔پس میں ان تمام احمدیوں کو جن کی آمدن جنگ کی وجہ سے بڑھ گئی ہے توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اس تحریک میں اپنی اپنی آمدن کے مطابق حصہ لیں۔ایسا نہ ہو کہ آمدن کی زیادتی کے باوجود وہ ثواب میں دوسروں سے پیچھے رہ جائیں۔مثلاً آجکل تاجروں کا کام بڑھ جانے کی وجہ سے اُن کی آمدنیوں میں غیر معمولی زیادتی ہو رہی ہے۔سینکڑوں تاجر ہماری جماعت میں ایسے ہیں جن کی آمدنی آجکل کے حالات کی وجہ سے سینکروں سے اُٹھ کر ہزاروں تک پہنچ گئی ہے۔پس وہ اگر اپنے گزشتہ سالوں کے چندہ کے مقابلہ میں زیادتی کریں تو وہ بہت تھوڑی ہو گی لیکن اگر اپنی گزشتہ اور موجودہ آمدنی کا مقابلہ کرتے ہوئے اُس نسبت سے چندے میں اضافہ کریں تو یہ اضافہ بالکل اور ہو گا۔میں جانتا ہوں کہ ہماری جماعت میں خدا تعالیٰ کے فضل سے ایسے مخلصین موجود ہیں جو اپنی ماہوار آمد سے بھی زیادہ چندہ تحریک جدید میں دے رہے ہیں لیکن بعض ایسے بھی ہیں جن کی قربانی اُن کی ماہوار آمد سے دو دو تین تین گنا زیادہ ہے اور وہ خوشی سے یہ قربانی کر رہے ہیں۔مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ تاجروں میں بالعموم وہ اخلاص نہیں پایا جاتا جو ملازمت پیشہ لوگوں میں پایا جاتا ہے۔شاید اس لئے کہ ملازمت پیشہ لوگوں میں تعلیم زیادہ ہے۔یا شاید اس لئے کہ ان کی مقررہ آمد نیاں ہوتی ہیں اور ان کے دلوں میں گھبراہٹ پیدا نہیں ہوتی کہ آج کیا ہو گا اور کل کیا ہو گا مگر بہر حال تجربہ یہی بتاتا ہے کہ ملازمت پیشہ لوگ قربانی میں بہت بڑھے ہوئے ہیں۔اسی طرح زمیندار دوست بھی تاجر پیشہ لوگوں سے زیادہ قربانی کرتے ہیں۔سب سے کم قربانی کرنے والی تاجر پیشہ لوگوں کی جماعت ہے۔اُن میں سے بعض کی سالانہ آمد