خطبات محمود (جلد 24) — Page 215
$1943 215 خطبات محمود خد اتعالیٰ کے ساتھ وعدہ کرتا ہے کہ وہ دین کے لئے اپنی زندگی وقف کرتا ہے اور پھر امام جماعت بلکہ نبی کے رڈ کر دینے پر بھی وہ سمجھتا ہے کہ مجھے چونکہ قبول نہیں کیا گیا اس لئے میں آزاد ہوں۔تو وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ وعدہ خلافی کا مرتکب سمجھا جائے گا۔بلکہ اپنے آپ کو پیش کر دینا تو در کنار جو شخص اپنے دل میں بھی یہ فیصلہ کرتا ہے کہ میں خدا تعالیٰ کے لئے وقف ہوں تو پھر کسی وقت بھی اس کا اپنے آپ کو وقف کی ذمہ داریوں سے آزاد سمجھنا شدید وعدہ خلافی ہے۔کسی کا اسے قبول کرنے سے انکار اس کے وقف کو نہیں بدل سکتا۔اس کے رڈ کرنے کے معنے تو صرف یہ ہیں کہ وہ اس خاص جماعت میں شامل نہیں ہو سکتا جس سے اس وقت کوئی کام لیا جاتا ہے اور یہ عدم شمولیت اس کے وقف کو بدل نہیں سکتی۔بلکہ جس دن سے کوئی وقف کا ارادہ کرتا ہے وہ چاہے اس ارادہ کا اظہار بھی کسی کے سامنے نہ کرے وہ خدا تعالیٰ کے ہاں واقف ہے۔اور اس سے کسی صورت میں بھی اپنے آپ کو آزاد سمجھنا وعدہ خلافی ہے۔کامل مومن وہ ہے جو دل کے ارادہ پر بھی پختہ رہے۔رسولِ کریم صلی ای ایم نے فرمایا ہے کہ جو شخص صدقہ کا ارادہ کرے اس کے لئے صدقہ کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔جو شخص نفل پڑھنے کا ارادہ کرے اس کے لئے پڑھنا ضروری ہے۔پس کامل مومن کا ارادہ بھی اسے باندھ دیتا ہے اور پابند کر دیتا ہے۔لیکن اگر کوئی ادنی مومن ہے تو جب وہ ایک بار اپنے آپ کو وقف کر چکا تو خواہ اسے قبول نہ بھی کیا جائے وہ آزاد نہیں ہو سکتا۔دینی خدمت کے لئے قبول نہ کئے جانے کی صورت میں اگر وہ مثلاً ڈاکٹری کرتا ہے تو اس کا فرض ہے کہ ڈاکٹری کے کام کو کم سے کم وقت میں محدود کرے اور باقی وقت دین کی خدمت میں لگائے۔اگر کوئی انجینئر ہے تو چاہیے کہ کم سے کم وقت انجینئر نگ کے کام پر صرف کرے اور زیادہ سے زیادہ دین کی خدمت پر۔اگر وہ کوئی ملازمت اختیار کرتا ہے تو چاہیے کہ ملازمت کے لئے جتنا وقت دینا اس کے لئے لازمی ہے اس کے سوا باقی وقت کا کثیر حصہ دینی خدمت میں گزارے۔اور پھر اس تاک میں رہے کہ کب دینی خدمت کے لئے آگے بڑھنے کا مطالبہ ہوتا ہے۔اور جب بھی ایسی آواز اس کے کان میں پڑے اسے چاہیئے کہ پھر اپنے آپ کو پیش کرے اور کہے کہ میں واقف ہوں۔پہلے فلاں وقت مجھے نہیں لیا گیا تھا اب میں پھر پیش کرتا ہوں۔اور خواہ وہ ساری عمر بھی نہ لیا جائے مگر