خطبات محمود (جلد 24) — Page 2
* 1943 2 خطبات محمود زیادہ تر اسلام کو قبول کرلیں گی مگر آج تک آپ کے مخالف بالعموم اور مولوی ثناء اللہ صاحب بالخصوص ہمیشہ یہی کہتے ہیں کہ اس کے کوئی آثار نظر نہیں آتے بلکہ عیسائیت پہلے سے زیادہ ترقی پر نظر آتی ہے۔مسلمانوں کا نو تعلیم یافتہ گروہ جو مولویوں کا متبع نہیں اور جس کی نگاہ مذہب پر نہیں بلکہ جو سیاسیات کو دیکھنے والا ہے وہ بھی یہی کہہ رہا ہے کہ سیاسی طور پر جماعت احمدیہ نے دنیا یا مسلمانوں کی ترقی کے لئے کیا کیا ہے کہ یہ سمجھا جا سکے کہ مستقبل اس جماعت کے ہاتھ میں ہے۔لیکن پہلے زمانوں میں بھی ایسا ہی ہو تا رہا ہے۔رسول کریم صلی الم کی ہجرت کے زمانہ میں کون شخص تھا جو یہ یقین رکھتا تھا کہ مکہ میں رہنے والے چند ایک غریب لوگ تھوڑے ہی عرصہ میں سارے عرب پر چھا جانے والے ہیں۔لیکن ہجرت کے معا بعد یعنی دوسرے ہی سال مکہ کے وہ رؤساء جو اسلام کی ہستی کو مٹا دینے پر تلے ہوئے تھے اور جو غریب مسلمانوں پر طرح طرح کے ظلم و ستم کرتے تھے بدر کے میدان میں اس طرح ذبح کر دیئے گئے جس طرح باؤلے کتنے گاؤں کی گلیوں میں مروا دیئے جاتے ہیں۔حضرت نوح علیہ السلام کے زمانہ میں طوفان آیا مگر طوفان آنے سے قبل آخری وقت تک آپ کی قوم ہنستی رہی اور یہی کہتی رہی کہ ہاں ہم غرق ہو جائیں گے اور تم بچ جاؤ گے۔اگر ہم غرق ہو گئے تو وہ جگہ کہاں ہے جہاں تم بھاگ جاؤ گے لیکن سالہا سال کی ہنسی کے بعد جسے بائبل نے شاعرانہ رنگ میں سینکڑوں سال یعنی چھ سو سال کا زمانہ کہا ہے یکدم طوفان آیا اور وہ لوگ غرق ہو گئے جو آپ پر ہنسی کیا کرتے تھے اور آپ کی کشتی پہاڑ کی چوٹی پر جا ٹھہری۔قرآن کریم اور بائبل دونوں سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام جب مصر سے بھاگے تو آخر وقت تک ان کی قوم کے لوگ بھی یہ نہیں سمجھتے تھے کہ ہماری نجات کا وقت آگیا ہے اور فرعون نے بھی کہا کہ یہ تھوڑے سے لوگ ہیں فوراً فو جیں جمع کرو۔یہ ہم سے بھاگ کر کہاں جاسکتے ہیں اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کے لوگوں کو فرعون کا لشکر نظر آیا تو انہوں نے کہا انا لمدركون 2۔ہم ضرور پکڑے جائیں گے۔لیکن وہی لوگ جو آدھ گھنٹہ پہلے یہ سمجھتے تھے کہ ہم اب فرعون کے ہاتھ سے بچ نہیں سکتے آدھ گھنٹہ بعد انہوں نے ا