خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 19 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 19

$1943 19 خطبات محمود ہوں گے نہ آسمان سے۔دوسری طرف کمیت میں ترقی بھی ضروری ہے۔اگر ہم تعداد میں ترقی نہ کریں تو بھی دنیا کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔آنحضرت صلی اللہ تم کتنے عظیم الشان انسان تھے لیکن اگر آپ غارِ حرا ہی میں ساری عمر دعائیں کرتے کرتے فوت ہو جاتے تو آپ کی جڑوں سے ابو بکر ، عمر، عثمان ، علی اور طلحہ، زبیر رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ جیسے لوگ کبھی نہ پید اہو سکتے اور اس صورت میں دنیا آپ کی برکات سے کس طرح حصہ لے سکتی۔آپ کی ذات میں بے شمار خوبیاں تھیں۔مگر آپ کی مثال ایک جڑ کی تھی اور اس جڑ کے خوشبو دار پھول ابو بکر ، عمر، عثمان اور علی رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وغیرہ تھے۔اگر اس جڑ سے یہ خوشبو دار پھول پیدا نہ ہوتے تو دنیا اس سے زیادہ فائدہ نہ اٹھا سکتی۔آم کتنا اچھا پھل ہے لیکن اگر دنیا میں ایک ہی آم ہو تاتو دنیا اس سے کیا فائدہ اٹھا سکتی۔مشک اور عنبر وغیرہ کتنی مفید چیزیں ہیں لیکن اگر دنیا میں ایک دو ہرن ہی ایسے ہوتے جن سے مشک حاصل ہو سکتا یا ایک دو مچھلیاں ہوتیں جن سے عنبر حاصل ہو تا تو سوائے ایک دو بڑے بڑے بادشاہوں کے کوئی اس سے فائدہ نہ اٹھا سکتا۔جب تک کوئی مفید اور اچھی چیز عام لوگوں کو میسر نہ آسکے اس کی اچھائی کسی کام کی نہیں۔گندم، چاول اور گوشت کتنی اچھی چیزیں ہیں لیکن اگر دنیا میں صرف دو چار ہی بکرے ہوتے، اگر دو چار من ہی گندم یا چاول دنیا میں ہوتے تو لوگ ان سے کیا فائدہ اٹھا سکتے۔ان کی کثرت ہی ان کی خوبیوں کو ظاہر کرتی ہے۔اگر کثرت نہ ہوتی تو خوبی اندر ہی اندر مر جاتی۔اسی طرح جب تک کسی جماعت کی تعداد نہیں بڑھتی وہ دنیا کو نفع نہیں پہنچا سکتی۔دنیا کو نفع پہنچانے کے لئے ضروری ہے کہ تعداد بڑھے۔قرآن کریم نے کلمہ کی مثال اس درخت سے دی ہے جس کی جڑیں زمین میں ہوں اور شاخیں آسمان میں پھیلی ہوئی ہوں اور لوگ اس کے سایہ میں آرام کر سکیں۔2 کیفیت کی مضبوطی جڑ پر دلالت کرتی ہے اور صرف جڑ کی مضبوطی کافی نہیں۔عمدہ سے عمدہ درخت کا اوپر کا جھاڑ اگر کاٹ دیا جائے تو دنیا اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتی۔اسی طرح کسی عمدہ سے عمدہ درخت کی جڑ اگر مضبوط نہ ہو تو وہ بھی دنیا کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔یہ دونوں چیزیں نہایت ضروری ہیں۔