خطبات محمود (جلد 24) — Page 180
$1943 180 خطبات محمود جائیں گے۔پس وہ اس لئے دلیر نہیں ہے کہ صداقت ہمارے پاس نہیں بلکہ وہ اس لئے ہماری مخالفت میں دلیر ہے کہ یہ صداقت کے مدعی اپنے دعویٰ میں دیانتدار نہیں ہیں۔وہ لوگ اسلام اور احمدیت کی سچائی میں متشكك نہیں ہیں۔ان کو صرف اس بات میں شک ہے کہ اس سچائی کے علمبر دار اتنی ہمت بھی رکھتے ہیں یا نہیں کہ دنیا میں پھیل کر اسلامی حکومت کو قائم کر سکیں۔پس اگر ہم منہ سے اس سچائی کو دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں لیکن ہماری عملی کوشش یہ ہوتی ہے کہ جب اس سچائی کو قائم کرنے کے لئے جدوجہد کی جائے تو ہم کہتے ہیں اس کو رہنے دو جس کا دل چاہے قرآن کے حکموں کو مانے جس کا دل چاہے قرآن کے حکموں کو رڈ کر دے ، جس کا دل چاہے مرزا صاحب کے حکموں کو مانے اور جس کا دل چاہے ان کے حکموں کو توڑ دے یا جب کوئی شخص ہم میں سے کسی اسلامی حکم کی خلاف ورزی کرے اور اسے سزادی جانے لگے تو تم کہو کہ تمہیں اس سے کیا۔اگر کوئی شخص کسی حکم کو توڑ تا ہے تو بے شک توڑے۔جب دنیا ہمارے دل کی اس کیفیت سے آگاہ ہو گی تو وہ یقیناً اسے احمدیت کی موت کی علامت قرار دے گی۔اور وہ کبھی بھی ان سچائیوں کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہو گی جو ہماری طرف سے پیش کی جاتی ہیں۔لیکن اگر تم دنیا کو دیکھنے اور سمجھنے دو اور یقین کر لینے دو کہ اسلام اور احمدیت کی جس تعلیم کو یہ پیش کرتے ہیں اسے دنیا میں قائم کرنے کا مصمم ارادہ رکھتے ہیں۔اگر ان کے بیٹے ، ان کی بیویاں، ان کے بھائی، ان کی مائیں، ان کے باپ اور ان کے عزیز ترین دوست بھی اس کے احکام کو توڑنے کے لئے کھڑے ہوتے ہیں تو وہ ان کو ایسا ہی ذلیل کرتے اور ایسی ہی انہیں سخت سزائیں دیتے ہیں جیسے اپنے اشد ترین دشمنوں کو اور ان کے دلوں میں کوئی رافت اور رحم پیدا نہیں ہوتا۔تو تم یاد رکھو دنیا اسی دن مرعوب ہو جائے گی۔نہ صرف اس تعلیم سے جو ہماری طرف سے پیش کی جاتی ہے ، اس سے تو ہر شخص مرعوب ہو ہی جائے گا بلکہ اس حربہ اور اس آلہ سے بھی جو اس سچائی کو پھیلانے کے لئے استعمال کیا جارہا ہے یعنی جماعت احمدیت کا نظام۔پس یہ ایک ہی گر ہے جو اسلام اور احمدیت کی ترقی کا ہے۔ہر شخص جو اس گر کے استعمال کرنے میں کمزوری دکھاتا ہے ، ہر شخص جو لوگوں سے ڈر کر اس طریق عمل کو