خطبات محمود (جلد 24) — Page 165
$1943 165 خطبات محمود کس طرح بنوائیں۔یہ اسی لئے ہے کہ تحریک جدید کے ماتحت ہماری جماعت کے قلوب سے اسراف کی عادت خدا تعالیٰ کے فضل سے نکل گئی ہے۔مگر آج جس مضمون کی طرف میں خصوصیت کے ساتھ توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ پہلے تو جماعت نے اس تحریک کو محض میری اطاعت کے طور پر مانا تھا مگر اب میں چاہتا ہوں کہ دوست اس بات کو دیکھیں کہ کس طرح خدا تعالیٰ نے تحریک جدید کے زمانہ میں ہی ایسے حالات پیدا کر دیے ہیں جن کے نتیجہ میں لوگ اس بات پر مجبور ہو رہے ہیں کہ اپنے حالات زندگی میں تغیر پیدا کریں اور کھانے اور پینے کی چیزوں میں کمی کریں۔پس انہیں سمجھ لینا چاہیئے کہ دنیا میں اس قسم کے زمانے بھی آتے رہتے ہیں۔اس لئے انہیں نہ عارضی طور پر بلکہ مستقل طور پر اپنی عادتوں میں ایسا تغیر پیدا کرنا چاہیئے اور اپنے حالات زندگی میں ایسی سادگی اختیار کرنی چاہیئے کہ زمانہ کا رنگ کیسا ہی بدل جائے انہیں کوئی دکھ اور تکلیف محسوس نہ ہو۔میں نے بتایا ہے کہ جن حالات میں ہم روزانہ اپنی زندگی بسر کر رہے ہیں اور ہمیں ذرا بھی تکلیف محسوس نہیں ہوتی۔وہ یورپین لوگوں کے لئے شدید مشکلات کا باعث بنے ہوئے ہیں۔بلکہ آج کل بھی جن حالات میں سے وہ گزر رہے ہیں وہ ہمارے نزد یک تعیش کے سامان اپنے اندر رکھتے ہیں۔پس دنیا کے حوادث ایک سچے مومن کے لئے کسی تکلیف کا موجب نہیں ہو سکتے۔آخر رسول کریم صلی علیم سے بڑھ کر دنیا میں اور کون ہے جو اس بات کا مستحق ہو سکتا ہے کہ اسے آرام اور راحت پہنچے۔اگر کوئی چیز فائدہ کا موجب ہو سکتی ہے، اگر کوئی چیز ہماری زندگی کے لئے ضروری سمجھی جاسکتی ہے ، اگر کوئی چیز ایسی ہے جس سے ہم راحت اور آرام محسوس کر سکتے ہیں تو ہر مومن جس کے دل میں ایک ذرہ بھر بھی ایمان ہو وہ ہر راحت اور آرام کی چیز کو استعمال کرتے وقت اس امر کی خواہش کرے گا کہ کاش اسے اس امر کی توفیق ہوتی کہ وہ اس راحت اور آرام کی چیز کو رسول کریم صلی ا کرم کی ذات کے لئے مہیا کر سکتا۔ہم دیکھتے ہیں جن لوگوں کے دلوں میں سچی محبت تھی انہوں نے عملی طور پر اس بات کا ثبوت دے دیا۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق تاریخ میں آتا ہے کہ جس وقت سب سے پہلے ہوائی چکیاں آئیں اور مدینہ میں ان چکیوں کے ذریعہ میدے کی طرح نہایت