خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 75 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 75

* 1943 75 خطبات محمود دعا اس کنواں لگانے والے نے اسی وجہ سے حاصل کی کہ اس کے عمل کا نشان قائم رہ گیا اور یہی چیز اصل توجہ کے قابل ہے۔ہر احمدی کو چاہیے کہ اپنے اندر ایسی تبدیلی پیدا کرے جو اسے خدا تعالیٰ کے قریب کر دے۔اگر ایک شخص نماز پڑھتا ہے اور اس کے دل میں ہمدردی نہیں پیدا ہوتی تو سمجھ لیا جائے گا کہ اس نے دل سے نماز نہیں پڑھی۔کیونکہ یہ ہو نہیں سکتا کہ کوئی شخص سچے دل سے نماز ادا کرے اور اس کے دل میں بنی نوع کی ہمدردی پیدا نہ ہو۔پھر ایسی نماز سے کیا فائدہ۔ناقص چیز کسی کے سامنے پیش کرنا تو ایسا ہی ہے جیسا کہ تم کسی کو بادام دو اور وہ کڑوا ہو تو وہ تم پر ناراض ہو گا کہ اس نے میرے ساتھ شرارت کی۔اگر تم نہ دیتے تو ناراض نہ ہو تا لیکن جب تم خراب چیز دو گے تو وہ خفا ہو گا۔اسی طرح خد اتعالیٰ کے سامنے اگر تم اچھی چیز پیش کرو تو وہ خوش ہو گا۔کچھ نہ پیش کرو گے تو رحم کرے گا لیکن اگر گندی چیز پیش کرو گے تو وہ ناراض ہو گا۔پس مومن کو اس حالت سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیئے کہ اس سے بجائے فائدہ کے الٹا نقصان کا اندیشہ ہو۔“ (الفضل 31 مارچ 1943ء) 1: الحج: 38