خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 302 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 302

$1943 302 خطبات محمود کی کوشش کریں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جماعت کے مخلصین اللہ تعالیٰ کے فضل سے چندوں میں ہمیشہ نمایاں حصہ لیا کرتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ ان کا قدم ہمیشہ آگے بڑھے۔مگر یہ سال چونکہ تحریک جدید کے پہلے دور کا آخری سال ہے اس لئے میری خواہش ہے کہ وہ لوگ جو اپنے دلوں میں اخلاص رکھتے اور خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت کا شوق رکھتے ہیں وہ اس سال ایسی نمایاں قربانی کریں جو اس سے پہلے انہوں نے سلسلہ اور اسلام کے لئے کبھی نہ کی ہو۔میں کسی کو کوئی ایسا بوجھ اٹھانے کے لئے نہیں کہتا جسے وہ اٹھانے کی طاقت نہیں رکھتا۔میں صرف یہ کہتا ہوں کہ وہ لوگ جنہوں نے اب تک پورا بوجھ نہیں اٹھایا اور قربانی کو اس کے صحیح اور حقیقی معیار تک نہیں پہنچایا وہ اس سال ایسے رنگ میں قربانی کریں جس کی مثال پہلے کسی سال میں نہ مل سکے۔میں اپنے متعلق یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ چونکہ یہ تحریک جدید کا آخری سال ہے اور میر اجماعت کے مخلصین سے یہ مطالبہ ہے کہ وہ اس سال پہلے تمام سالوں کے مقابلہ میں زیادہ قربانی کریں اس لئے میں نے بھی اپنے پچھلے سال کے چندہ سے ساڑھے تین گنا زیادہ چندہ لکھوا دیا ہے۔میں چاہتا ہوں کہ یہ تحریک جس طرح اپنے دور میں ایسا نر الا رنگ رکھتی ہے جس کی مثال جماعت کے پہلے دوروں میں نہیں ملتی اس لئے کہ یہ تحریک ان چندوں کے علاوہ ہے جو جماعت کو علیحدہ طور پر دینے پڑتے ہیں اور گو تحریک جدید کے چندہ کی مقدار جماعت کے دوسرے سال بھر کے چندوں سے کم دکھائی دیتی ہے مگر یہ چندہ دوسرے چندوں کے ساتھ مل کر جماعت کی مالی قربانی کی ایسی شاندار مثال پیش کرتا ہے جس کی نظیر اور کہیں نظر نہیں آتی۔اسی طرح میں چاہتا ہوں کہ تحریک جدید کا یہ آخری سال جماعت کی مالی قربانی کے لحاظ سے ایک غیر معمولی سال ہو اور جس طرح تحریک جدید کی مثال اور کسی تحریک میں نہیں ملتی اسی طرح تحریک جدید کے آخری سال کی مالی قربانی کی مثال جماعت کی سابقہ قربانیوں کے لحاظ سے کسی اور سال میں نظر نہ آئے۔بے شک آجکل لوگوں کو مالی تنگیاں ہیں ، قحط پڑا ہوا ہے اور ضروریات زندگی نہایت گراں ہو گئی ہیں مگر ہماری جماعت کا اسی فیصدی حصہ زمینداروں پر مشتمل ہے۔اور آجکل کے قحط کے ایام سے زمیندار متاثر نہیں ہوئے بلکہ ان کے پاس پہلے سے