خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 30 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 30

خطبات محمود 30 $1943 درخواست کرو کہ وہ اس میں حصہ لے۔تم اس تحریک کی اہمیت اس پر واضح کرو اور اسے سمجھاؤ کہ خدمت دین کے یہ مواقع بار بار میسر نہیں آیا کرتے۔نسلیں مٹ جاتی ہیں مگر وہ لوگ جنہوں نے خدا تعالیٰ کے دین کے لئے قربانیاں کی ہوئی ہوتی ہیں اُن کے نام کو زمانہ نہیں وہ مٹاسکتا اور نہ اس ثواب کو مٹا سکتا ہے جو انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والا ہو تا ہے۔آج کتنے صحابی ہیں جن کی نسلوں کا بھی ہمیں پتہ نہیں کہ وہ کہاں گئیں اور تو اور حضرت ابو بکر کی نسل کا پورا پتہ ہمیں نہیں ملتا۔حضرت عمر کی نسل کا پورا پتہ ہمیں نہیں ملتا۔رید کرید کر خاندان نکالے جاتے ہیں۔اور کہا جاتا ہے کہ یہ خاندان حضرت ابو بکر کی نسل میں سے ہے۔یہ خاندان حضرت عمرؓ کی نسل میں سے ہے مگر ابو بکر اور عمرؓ نے جو قربانیاں رسول کریم صلی نیلم کے زمانہ میں کی تھیں وہ آج بھی ظاہر ہیں اور زمانہ ان کو لوگوں کی نگاہ سے مخفی نہیں کر سکا۔گویا اُن کی جسمانی نسل مخفی ہو گئی مگر اُن کی روحانی نسل یعنی اُن کے و کارنامے جو انہوں نے کئے آج بھی ظاہر ہیں اور قیامت تک ظاہر رہیں گے۔اور آخرت میں اُن کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو ثواب ملنا ہے اُس کا تو ہم اندازہ اور قیاس بھی نہیں کر سکتے۔کون ہے جو اللہ تعالیٰ کی شان اور اس کی عظمت اور اس کے قرب کا اندازہ لگا سکے۔معمولی معمولی مٹھائی کی دکا نہیں ہوتی ہیں مگر لوگ ان مٹھائیوں کے مزے میں بھی فرق کرتے ہیں اور کہتے ہیں فلاں حلوائی سے مٹھائی کی جائے کیونکہ اس کا مزہ اچھا ہوتا ہے۔لوگ دتی جاتے ہیں تو اپنے دوستوں سے پوچھ لیتے ہیں کہ انہیں کسی چیز کی ضرورت ہو تو بتا دیں اور وہ کہتے ہیں کہ اگر دتی گئے تو فلاں مٹھائی والے سے مٹھائی لے آنا کیونکہ اس کی مٹھائی کا مزہ نہایت اعلیٰ ہوتا ہے۔اگر یہ گندی تہبند باندھنے والے حلوائی جو مٹھائی بناتے بناتے باہر پیشاب کرنے چلے جاتے ہیں اور پھر بغیر ہاتھ دھوئے اور طہارت کئے مٹھائی بنانے لگ جاتے ہیں اُن کی تیار کی ہوئی مٹھائیوں کے مزہ میں فرق ہوتا ہے تو تم خود ہی سوچ لو کہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ سے محبت کا جام جن لوگوں کو ملے گا وہ کیسا لذیذ ہو گا اور کون سی قربانی ہے جو اس کے مقابلہ میں اہم کہلا سکتی ہے۔” (الفضل 26 جنوری 1943ء) 1۔بخارى كتاب الاجارة باب الاجارة الى نصف النهار