خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 294 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 294

$1943 294 خطبات محمود مطالعہ کا فقدان ہے کہ جو بات بھی کوئی کرے دوسرا اسے ضرور سمجھتا ہے اور اگر وہ اسے درست طور پر بیان نہیں کر سکتا تو وہ یا جھوٹا ہے یا جاہل۔بڑے سے بڑا عالم اور بڑے سے بڑا راستباز بھی بعض اوقات کسی بات کو غلط سمجھ سکتا ہے اور اس پر ایسے وقت آسکتے ہیں جب اس کی توجہ دوسری طرف ہو اور ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ توجہ ہونے کے باوجو د کوئی انسان کسی بات کو غلط سمجھے۔اس جگہ اس بات کا بیان کر دینا بھی ضروری ہے کہ قرآن کریم میں بھی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عربی تصانیف میں بھی دو چار مقام ایسے ہیں کہ جو عربی کے عام مروجہ قواعد کے خلاف ہیں۔مگر قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی اللہ تعالیٰ نے قادر الکلام بنایا تھا۔اس لئے ایسی عبارات کو غلط نہیں کہا جا سکتا۔جو قادر الکلام ہو اس کا حق ہوتا ہے کہ جہاں چاہے کوئی دوسرا قاعدہ جاری کر دے۔استثناء کے طور پر ہے۔اس کے بالمقابل بہاء اللہ نے عربی میں جو کتابیں لکھی ہیں وہ ادبی لحاظ سے بہت غلط ہیں۔وہ اس استثناء کے ماتحت نہیں آسکتیں۔اسی طرح اس زمانہ کے بعض ملہم ہیں وہ بھی اپنے غلط عربی الہامات کے متعلق یہی استثناء پیش کر دیتے ہیں مگر ان کا یہ حق نہیں کہ کوئی نیا قاعدہ جاری کریں۔قادر الکلام کی غلطی اور ہے اور جاہل کی اور۔ایک ڈاکٹر کے ہاتھ سے بھی لوگ مر جاتے ہیں اور عطائی کے ہاتھ سے بھی مگر ڈاکٹر جسے مارتا بھی ہے سائنس سے مارتا ہے اور عطائی جہالت سے مارتا ہے۔کوئی ڈاکٹر یا کسی بھی طب کا واقف شخص اگر غلطی بھی کرے گا تو وہ سائنس کے ماتحت ہو گی مگر عطائی کی غلطی جہالت کے ماتحت ہو گی۔ڈاکٹر کے ہاتھ سے کسی کا مرنا اتفاقی امر ہو گا لیکن ناواقف کے ہاتھ سے کسی کا صحتیاب ہو نا اتفاقی امر ہو گا۔تو جن لوگوں کو انبیاء کی محبت حاصل ہوتی ہے ان سے بھی غلطیاں ہو سکتی ہیں مگر وہ اتفاقی ہوتی ہیں۔اور غلطی کے امکان کے باوجود یہ کام وہی لوگ کر سکتے ہیں۔جس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھا ہی نہیں اسے اگر کہا جائے کہ آپ کے زمانہ کی تاریخ لکھو تو وہ کیا لکھ سکتا ہے۔وہ بھی لازماً ان لوگوں کے پاس ہی جانے پر مجبور ہو گا۔پس کسی بات کی وجہ سے انہیں غیر مستند اور ناقابل اعتبار قرار دینا درست نہیں۔