خطبات محمود (جلد 24) — Page 258
$1943 258 26) خطبات محمود دعوتوں وغیرہ میں میر اوقت ضائع نہ کیا جائے (فرمودہ 5 نومبر 1943ء) تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: ” آج کے خطبہ میں میں بعض ایسی باتیں کہنا چاہتا ہوں جو میری ذات سے تعلق رکھتی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو خواہ وہ نبی ہو ، رسول ہو، خلیفہ ہو، شیخ ہو، مجد دہو۔کچھ بھی ہو، جس کو اس نے پیدا کیا ہے انسانی قوی اور دیگر بشریت کے تقاضے لگا کر ہی پیدا کیا ہے۔وہ اپنی زندگی میں بچپن کا بھی محتاج ہوتا ہے۔رسول کریم صلی ا یمن کی طرف ایک حدیث منسوب کی جاتی ہے کہ آپ نے فرمایا الصَّبِيُّ صَبِيٌّ وَلَوْ كَانَ نَبِيًّا۔یعنی بچہ بچہ ہی ہے خواہ وہ نبی ہی کیوں نہ ہو۔بچپن کا زمانہ بشریت کا ایک حصہ ہے۔اس میں نبیوں اور رسولوں کو بھی شریک ہونا پڑتا ہے اور دوسرے لوگوں کو بھی۔اس کے بعد جوانی کا زمانہ آتا ہے جو تعلیم اور تجربہ کا زمانہ ہے۔اس میں بھی سب انسان شریک ہوتے ہیں۔پھر ادھیڑ عمر کا زمانہ ہے۔اس میں بھی سب شریک ہوتے ہیں۔پھر بڑھاپا آتا ہے اس میں بھی سب شریک ہوتے ہیں اور کسی کو بھی کسی حالت سے استثناء حاصل نہیں۔کافر و مومن، شریف اور غیر شریف، دنیا کی خدمت کرنے والا یا نفسا نفسی کرنے والا ، سب کے سب انسان ان دوروں میں سے گزرتے ہیں۔ان اثرات کو قبول کرتے اور ان حالات کو بھگتے ہیں۔اور اس بارہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی کے ساتھ کوئی امتیاز روا نہیں رکھا جاتا۔پس کسی انسان کے متعلق یہ خیال کر لینا کہ وہ انسانی اور