خطبات محمود (جلد 24) — Page 21
$1943 21 خطبات محمود چاہیے۔جب تک جماعت کے ہر فرد کے اندر یہ آگ نہ ہو کہ اس نے ہر ایک اپنے قریب بلکہ بعید کے شخص کو بھی جماعت میں داخل کرنا ہے اور جب تک لوگ افواج در افواج احمدیت میں داخل نہ ہوں ہماری حیثیت محفوظ نہیں ہو سکتی اور ذمہ داری ختم نہیں ہو سکتی۔پس میں ان دونوں امور کی طرف پھر جماعت کو توجہ دلا تا ہوں۔ہر ضلع میں ہمارے جلسے ہونے چاہئیں۔متواتر انفرادی تبلیغ بھی نہایت ضروری ہے مگر تجربہ سے معلوم ہوا ہے کہ جلسوں کے بغیر وہ جوش جماعت میں پیدا نہیں ہوتا جو انفرادی تبلیغ کے لئے ضروری ہے۔پس کوشش کی جائے کہ کم سے کم ہر سال ہر تحصیل میں ہمارا جلسہ ضرور ہو۔پھر اس کے ساتھ انفرادی تبلیغ کو بھی منظم کیا جائے خصوصیت سے اضلاع گورداسپور ، سیالکوٹ اور گجرات میں۔ان تینوں اضلاع کی طرف خصوصیت سے توجہ دی جائے۔گوداسپور کے ضلع میں قادیان جو احمدیت کا مرکز ہے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو قادیان میں پیدا کیا، گجرات کا ضلع سب سے پہلے احمدیت میں آگے بڑھا۔ایک وقت تھا جب گجرات کے احمدی سب سے زیادہ تھے اور سیالکوٹ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دوسر اوطن ہے۔ان اضلاع کی آبادی کثرت سے اضلاع سرگودھا، منٹگمری، لائلپور اور ملتان کے اضلاع میں جا کر آباد ہوئی۔اس لئے ان اضلاع کی طرف بھی زیادہ توجہ کرنی چاہیئے۔مگر میں دیکھتا ہوں کہ سالوں ر سال گزرتے چلے جاتے ہیں اور ان میں نہ کوئی جلسہ ہوتا ہے اور نہ تبلیغ۔جو نہایت افسوسناک بات ہے۔پس چاہئے کہ دوست سستی اور غفلت کو دور کریں۔تین چار ماہ کے اندر اندر ہر تحصیل یا اپنے علاقہ کے مرکز احمدیت میں جلسہ کر کے غور کیا جائے کہ کس طرح اور کن ذرائع سے اس علاقہ میں تبلیغ کو وسیع کیا جا سکتا ہے۔اگر دوست اپنی ذمہ داری کو محسوس کریں تو ایک ہی سال میں ہر جگہ ہیں تیس چالیس لوگ آسانی سے جماعت میں داخل ہو سکتے ہیں۔اور صرف پنجاب میں ہی چند ماہ میں بیس تیس ہزار احمدی ہو جاتے ہیں۔گو یہ بھی بہت تھوڑی تعداد ہے لیکن اگر یہ سلسلہ شروع ہو جائے تو جوں جوں جماعت بڑھتی جائے گی ترقی میں مزید اضافہ ہوتا جائے۔پھر دیگر اضلاع کی تحصیلوں کو بھی اس تجویز میں شامل کیا جاسکتا ہے۔(ایسے اضلاع پنجاب میں سولہ سترہ ہوں گے) ان کی ہر تحصیل یا اس علاقہ کے مرکز احمدیت پر