خطبات محمود (جلد 24) — Page 208
$1943 208 خطبات محمود جب تمام بر تن لگ گئے تو اس نے مزدور سند باد بڑی کو کھانے کے لئے کہا اور کھانے کی تعریف بر کرنی شروع کی۔اور کہنے لگا کہ یہ مرغ چکھو نہایت ہی لذیذ پکا ہے۔یہ پلاؤ کھاؤ بہت ہی اعلیٰ ہے۔حالانکہ ڈش بالکل خالی تھے۔وہ بیچارا آگے ہی بھوکا تھا اور اس طرح خالی تعریف کئے جانے سے اس کی بری حالت ہو گئی مگر وہ بھی اس کی طرح خوش مزاج تھا۔اس لئے اسی کی طرح تعریف کرتا رہا کہ ہاں صاحب نہایت ہی عمدہ کھانا ہے، بہت لذیذ ہے۔جب اس سند باد جہازی نے معلوم کر لیا کہ یہ خوش مذاق آدمی ہے تو اس کو اصل کھانا بھی کھلایا۔اس مزدور کا اس کھانے کی تعریف کرنا اس کی خوش مذاقی کی دلیل تھا۔لیکن اگر وہ اس کو سچ سچ کھانا سمجھتا تو ہم اسے پاگل کہتے۔اسی طرح اگر ہم بھی خدا تعالیٰ کے سامنے اپنے کام گننے لگیں تو ہماری بیوقوفی ہو گی۔جہاں تک خوش مذاقی کا سوال ہے ہم سچے ہیں ورنہ ہمارے قرضے کی ادائیگی کے نام خدا نے شکر ، احسان، عبادت رکھ دیئے ہیں اور جہاں تک ہم اس نقطہ نگاہ سے دیکھتے ہیں کہ باوجود آپ کر کے پھر وہ کہتا ہے کہ یہ کام تم نے کیا۔اس حد تک تو ہم سچے ہیں لیکن اگر یہ وہم ہونے لگ جائے کہ ہم نے خدا کا شکر ادا کیا، ہم نے نیکی کی، ہم نے خدا کی عبادت کی۔تو یہ جنون ہے۔یہ تو محض خدا کی دین اور فضل ہے۔وہ خود اس کے لئے سامان مہیا کرتا ہے اور پھر اس کا نام لوگوں کے سامنے رکھ دیتا ہے۔جیسے بعض لوگ ہمارے سامنے ہدیہ پیش کرتے ہیں اور بعض لوگ اپنے بچوں کے ہاتھ میں کوئی چیز دے کر کہتے ہیں کہ یہ تم پیش کرو۔تو دراصل وہ کام باپ کا ہوتا ہے بچہ کا نہیں۔اسی طرح خدا تعالیٰ نے جو اِيَّاكَ نَعْبُدُ 2 فرمایا وہ تو صرف خدا نے ہمیں سکھایا ہے۔جیسے ہدیہ دینے میں خوبی اور کمال کا تعلق بچہ کے ساتھ نہیں اسی طرح عبادت کے اخلاص کے ساتھ انسان کا کوئی تعلق نہیں۔یہ سب کچھ خدا نے سکھایا تھا۔ہم نے تو صرف ان کو دہرایا ہے اور دہر انا کوئی اپنی ذات میں خوبی نہیں۔خوبی اسی میں ہے جو اس کو پہلے بیان کرتا ہے۔تو انسانی اعمال ایسے ہیں کہ انسان بسا اوقات ان سے دھو کہ کھا جاتا ہے اور اسی جوش میں بعض اوقات آکر کہتا ہے کہ میں نے جائداد کو چھوڑا۔میں نے رشتہ داروں کو چھوڑا۔بھلا بتاؤ تو سہی کہ یہ چیزیں اس کے پاس کہاں سے آئیں۔اگر کوئی کہتا ہے کہ میں نے ماں باپ کو