خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 194 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 194

$1943 194 خطبات محمود 70 فیصد کی تباہ ہو گئے ہیں۔100 میں سے 85 کا مر جانا یا 70 خاندانوں کا لاوارث رہ جانا بہ ایسی چیز ہے کہ اس سے کوئی بھی اقتصادی صورت باقی نہیں رہ جاتی۔یورپ جیسے ملک میں جو عیش پرستی اور نشہ میں مبتلا ہے جنگ کے بعد ہی ایسا موقع ہے کہ وہ اس ہولناک تباہی سے ڈر کر توجہ کرے۔باقی وقتوں میں تو وہ دین کی طرف کوئی توجہ ہی نہیں کرتے۔اس ملک میں جب کوئی تقریر کرتا ہے تو وہ اس لئے نہیں سنتے کہ ان کو کوئی دلچسپی ہوتی ہے۔اول تو وہ سنتے ہی نہیں لیکن اگر سنیں بھی تو وہ نہ اعتراض دل سے کر رہے ہوتے ہیں اور نہ پسندیدگی کا اظہار دل سے کر رہے ہوتے ہیں۔ان ساری باتوں کو وہ خیالی اور جھوٹی خیال کرتے ہیں۔اور سمجھتے ہیں یہ کوئی پاگل ہے اور محسوس بھی نہیں کر رہے ہوتے کہ ہم بھی مان لیں لیکن اب ان کی زندگی کا پہلو ہی بدل گیا ہے اور ان کے دل مرعوب ہو رہے ہیں۔مولوی محمد الدین صاحب نے جب وہ یورپ سے واپس آئے۔ایک دفعہ ذکر کیا کہ وہاں آدمی گھر سے نکلتا ہے تو گلی کی نکڑ تک اسے سات دفعہ جھوٹ بولنا پڑتا ہے۔کوئی ملنے والا اسے کہتا ہے کہ آج موسم خراب ہے تو وہ کہتا ہے ہاں خراب ہے۔آگے چلتا ہے۔پھر دوسرا شخص ملتا ہے اور وہ کہتا ہے کیسی اچھی ٹھنڈک ہے تو یہ بھی ساتھ کہتا ہے ہاں کیا ہی اچھی ٹھنڈک ہے۔آگے چل کر کسی اور سے ملتا ہے جو بادل کو پسند کرتا ہے۔وہ پوچھتا ہے کیسا اچھا بادل آیا ہے وہ بھی اس کی ہاں میں ہاں ملا کر کہتا ہے ہاں خوب بادل آیا ہے۔اسی طرح ہر اس شخص سے مل کر جو بھی کوئی بات کرتا ہے خواہ اس کا دل دوسرے کی تائید کر رہا یانہ کر رہا ہو مگر ایک شہری ہونے کی حیثیت سے وہ اپنا فرض سمجھتا ہے کہ دوسرے کی بات کی تصدیق کرے۔اگر چہ دل سے وہ گالیاں دے رہا ہو مگر تائید ضرور کرتا ہے۔اگر کوئی کہے کہ آج اولے پڑیں گے تو خواہ اس کا خیال اس کے خلاف ہو اسے کہنا یہی پڑتا ہے کہ ہاں اولے پڑنے کا احتمال ہے۔موسم کے متعلق سوال کی عادت انگریزوں میں اس قدر راسخ ہے کہ تم جس بھی انگریز سے ملنے جاؤ خواہ دھوپ نکلی ہوئی ہو یا بارش ہو رہی ہو وہ تم سے ضرور پوچھے گا کہ علاقہ میں موسم کیسا ہے۔حالانکہ ہمارے ملک میں موسم ایک سا ہوتا ہے۔انگلستان کی طرح دن میں دو تین دفعہ نہیں بدلتا۔پس اس قسم کے شہر میں ہر شہری اپنا فرض سمجھتا ہے کہ میں اس کی تصدیق