خطبات محمود (جلد 24) — Page 150
خطبات محمود 150 * 1943 صرف ایک لے لیا اور اس میں دیکھنا شروع کیا جو چونکہ صحیح تھا اس لئے اس میں صرف ایک ہی شکل نظر آتی تھی اور اس طرح ہر ایک اس کا صحیح اندازہ کرنے کے قابل ہو گیا۔گو بعض نے پھر بھی دھوکا کھایا مگر یہ دھوکا نظر کی کمزوری کی وجہ سے ہے۔تو آئینہ کی صحت بہت بڑی اہمیت رکھتی ہے۔دنیا کے لئے ایک مذہب پیش کر کے اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید کو مضبوط کیا لیکن اس توحید کو قائم رکھنے کے لئے قلب کی صفائی بہت ضروری ہے۔مجھے یاد ہے میں بہت چھوٹا تھا جب میں نے رؤیا دیکھا کہ ایک فرشتہ میرے سامنے آیا اور اس نے ایک تقریر شروع کی۔جس میں کہا کہ انسان کا دل خدا تعالیٰ کے لئے بطور آئینہ کے ہے۔وہ اس میں اپنی شکل دیکھتا اور پتہ لگاتا ہے کہ اس میں نقص ہے یا خوبی ہے۔اور جیسی اسے اس میں شکل نظر آتی ہے ویسا ہی وہ آئینہ کو سمجھتا ہے۔جس طرح عور تیں سنگار کے لئے اور شکل دیکھنے کے لئے آئینہ استعمال کرتی ہیں مگر اسی وقت تک جب تک وہ صحیح صحیح شکل دکھاتا ہے مگر جب وہ خراب ہو جاتا ہے، چاندی اتر جاتی ہے اور وہ شکل کو بگاڑ کر دکھاتا یا بالکل نہیں دکھاتا اور بجائے حسن ظاہر کرنے کے بدصورت اور بد نما کر کے دکھاتا ہے تو وہ اسے اٹھا کر زمین پر مارتی ہے ( یہ کہتے ہوئے فرشتہ نے بھی اپنا ہاتھ اوپر اٹھایا اور اس آئینہ کو جو اس کے ہاتھ میں تھا زمین پر دے مارا۔وہ چھن کر کے چکنا چور ہو گیا اور وہ چھن کی آواز بھی میرے کان میں پڑی) اور اس فرشتہ نے کہا کہ وہی آئینہ جسے عورت اپنا حسن دیکھنے کے لئے استعمال کرتی ہے مکدر ہو جانے پر وہ اسے چور چور کر دیتی ہے۔یہی حال بندہ اور اللہ تعالیٰ کا ہے۔جب انسان کا دل صاف آئینہ کی طرح نہیں رہتا اور اللہ تعالیٰ کی شکل اس میں خراب نظر آتی ہے تو وہ اسے بے پروائی سے زمین پر پھینکتا اور چکنا چور کر دیتا ہے۔پس قلب انسانی ایک آئینہ ہے جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اپنا جمال دیکھتا ہے۔آنحضرت صلی یم نے تمام آئینوں کو ایک رنگ میں ڈھال دیا۔ایران، عرب، ہندوستان، افریقہ، امریکہ، یورپ سب کے لئے ایک ہی قسم کی اصطلاحیں دیں اور اس طرح اللہ تعالیٰ کی توحید کو صحیح رنگ میں قائم کیا۔یہ توحید کا پہلا مقام ہے۔دوسر ا مقام یہ ہے کہ تبلیغ کو اس قدر وسیع کیا جائے کہ دنیا