خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 149 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 149

$1943 149 خطبات محمود میں ایک دفعہ ریل میں سفر کر رہا تھا۔ریلوے میں ملازم ایک احمدی دوست بھی پاس بیٹھے تھے۔میں غسلخانہ میں گیا۔وہ جو چلیچی ہوتی ہے وہ بہت روشن اور شفاف ہوتی ہے۔اس پر میری نظر پڑی تو میں نے دیکھا کہ اس میں پیٹ گھڑے کی طرح بہت بڑا ساد کھائی دیتا ہے اور آگے نکلا ہوا نظر آرہا ہے۔میں نے واپس آکر مذاق کے طور پر کہا کہ ریل والے بہت جھوٹے ہوتے ہیں۔اس دوست نے سمجھا کہ شاید ان سے کوئی غلطی ہوئی ہے۔وہ دریافت کرنے لگے کہ کیا بات ہے۔میں نے کہا کہ بس ریلوے والے بڑے جھوٹے ہوتے ہیں۔وہ بہت پریشان ہوئے مگر میں نے کہا کہ میں نے جو بات اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے اس کو کس طرح غلط کہہ سکتا ہوں۔وہ دوست بہت حیران ہو رہے تھے۔اس پر میں نے چودھری فتح محمد صاحب اور میاں بشیر احمد صاحب سے جو میرے ہمسفر تھے کہا کہ آؤ بات سنو۔انہیں لے جا کر میں نے اس چلیچی کے آگے کھڑا کر دیا۔انہوں نے بھی جب دیکھا کہ ان کا پیٹ گولا سا بنا ہوا آگے نکلا ہوا نظر آ رہا ہے تو میں نے ان سے کہا کہ کیا ریل والے سچ بولتے ہیں۔انہوں نے کہا نہیں۔اس پر اس دوست کو اور بھی فکر ہوا۔تب میں نے انہیں لا کر سامنے کھڑا کیا تو انہیں معلوم ہوا کہ میں مذاق کے طور پر بات کر رہا تھا۔تو آئینے بھی مختلف اشکال ظاہر کرتے ہیں۔اسی طرح ایک پریشان دماغ بھی ایک نقشہ کھینچ لیتا ہے اور خدا تعالیٰ کو ایک رنگ دے لیتا ہے۔اور پھر سمجھتا ہے کہ وہی ٹھیک ہے جو وہ دیکھ رہا ہے حالانکہ اس کی مثال اس بچہ کی ہوتی ہے جسے کسی ایسے شیشہ کے سامنے اگر لا کر کھڑا کر دیا جائے جو شکل ٹھیک نہیں دکھاتا اور وہ اس میں کسی شخص کی شکل کو دیکھے تو وہ یہی سمجھے گا کہ جس شخص کی شکل وہ دیکھ رہا ہے اس کی توند بہت موٹی ہے۔اور اگر اس نے اسے پہلے نہ دیکھا ہوا ہو تو وہ سمجھے گا کہ اس شخص کی شکل واقعی ایسی ہے۔تو مختلف مذاہب نے اللہ تعالیٰ کے مختلف نام تجویز کئے ہوئے تھے جس سے دنیا میں عجیب تشویش پیدا ہو گئی تھی اور مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والوں نے اپنے دماغ میں اللہ تعالیٰ کی عجیب شکلیں اختیار کر رکھی تھیں۔اس کا نتیجہ یہ تھا کہ خدا تعالیٰ کی احدیت میں فرق پڑنے لگا تھا۔پس اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی نیلم کو مبعوث فرمایا اور آپ کے ذریعہ سب قسم کی اصطلاحوں اور ناموں کو ایک ذات میں جمع کر دیا۔گویا اللہ تعالیٰ نے باقی سب آئینے توڑ کر الله سة