خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 74 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 74

$1943 74 خطبات محمود رہتا ہے اور گو انسان کو یہ طاقت نہیں کہ وہ دنیا میں اس رس کو نکال لے مگر قیامت کے دن جب انسان کو یہ طاقت ملے گی کہ وہ خدا کو دیکھ سکے تو اسے یہ طاقت بھی مل جائے گی کہ وہ اپنے دل سے اعمال کا رس نکال کر خدا تعالیٰ کے حضور پیش کرے اور کہے کہ یہ میری نماز کارس ہے۔یہ میرے روزہ کا رس ہے۔یہ میرے حج کا رس ہے۔پس انسان کو ہر وقت یہ دیکھتے رہنا چاہیئے کہ جو عمل وہ کرتا ہے اُس کا کیا نتیجہ ہو گا اور کو نسارس اور نچوڑ اس کے قلب کے برتن میں گرتا ہے۔بعض لوگ اس کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور بیعت کر لینے سے یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ہم احمدی ہو گئے۔حالانکہ بعض دفعہ یہ بیعت بجائے فائدہ دینے کے لعنت بن کر رہ جاتی ہے۔پس مومن کو اپنے اعمال پر نظر رکھنی چاہیے اور اس طرح نیک نمونہ قائم کرنا چاہیئے جس طرح کہ صحابہ کرام تھے کہ ایمان نے ان کی کایا پلٹ دی اور اس کی وجہ سے ہم ان کے نام کے ساتھ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ پڑھا کرتے ہیں۔مگر کیا تم سمجھتے ہو کہ دس سال کے بعد بھی تمہارے نام کے ساتھ آئندہ آنے والے لوگ رَضِيَ اللهُ عَنْہ کہیں گے۔بعض دفعہ تو تمہارا ہمسایہ تمہارے سلوک کی وجہ سے لَعْنَتُ اللهُ عَنْهُ کہنے لگ جاتا ہے اور جب تمہارا اپنا ہمسایہ اور وست بھی رَضِيَ اللهُ عَنْهُ کہنے کو تیار نہیں تو کس طرح امید کر سکتے ہو کہ وہ لوگ جنہوں نے تمہیں دیکھا نہیں وہ تمہیں رَضِيَ اللهُ عَنْهُ کہیں گے۔یہ صحابہ ہی تھے جن کی نہ ہم نے شکل دیکھی، نہ ان کے رشتہ داروں کو دیکھا، نہ ان کی اولاد سے واقف ہیں۔سوائے چند ایک کے کہ ان کی اولاد کو ہم جانتے ہیں۔باقی صحابہ میں سے کہ ان کی ایک لاکھ تعداد تھی کسی کی اولاد کو بھی نہیں جانتے۔مگر اس کے باوجود ان کے کام کو دیکھ کر ہم بے اختیار ان کے لئے رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ کہنے لگتے ہیں۔اگر ہم بھی ایسا کام کریں کہ ہمارے اندر تقویٰ پیدا ہو تو آج ہی نہیں، کل ہی نہیں، پرسوں ہی نہیں بکہ اگر ہماری موت پر ہزاروں سال بھی گزر جائیں گے تب بھی لوگوں کے دلوں سے ہمارے لئے دعا نکلے گی۔خواہ لوگ ہم سے واقف نہ بھی ہوں۔کیا تم نے نہیں دیکھا کہ ایک مسافر کسی کنویں سے پانی پیتا ہے۔وہ اس کنویں کے لگانے والے کو نہیں جانتا۔اس کے نام سے واقف نہیں ہوتا پھر بھی وہ پانی پیتا ہے اور اس کنویں کے لگانے والے کے لئے دعا کرتا ہے کہ خدا اسے جزائے خیر دے جس نے اس رہ گزر پر کنواں لگا یا۔یہ