خطبات محمود (جلد 24) — Page 72
$1943 72 خطبات محمود سے کیا ہو گا تو وہ اس کے ساتھ رہے گا۔چھلکا بے شک پیچھے رہ جائے گا لیکن حج کا مغز انسان کے ساتھ چلا جائے گا۔اللہ تعالیٰ نے مغز کو فوقیت دی ہے مگر بعض لوگ چھلکے کے پیچھے چلتے ہیں۔مغز کی طرف خیال نہیں کرتے۔بعض احمدی بیعت کر لینے سے یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ہم نے بیعت کرلی تو سب کچھ معلوم ہو گیا۔ہم جو چاہیں کریں بیعت جو کر لی لیکن اگر کسی نے بیعت کی اور احمدیت کا مغز اس کے اندر داخل نہیں ہوا تو وہ یہ سمجھ لے کہ اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جو پانی میں غوطہ مار کر نکل آئے اور دوسرے دن مٹی میں لوٹنے لگے اور اگر کوئی اسے روکے تو اسے جواب دے کہ کل جو میں نے نہر میں چھلانگ لگائی تھی۔نادان نہیں جانتا کہ اس چھلانگ مارنے کا اثر تو اتنی ہی دیر تھا جتنی دیر وہ پانی میں تھا۔ہاں اس نہانے کا مغز یعنی قوت اور نشاط اس کے اندر رہے گا۔جس طرح کوئی شخص ورزش کرے تو اس کا اٹھنا، بیٹھنا، دوڑنا، ڈنٹر پیلنا تو ختم ہو جائے گا مگر اس فعل سے جو اس کے اندر طاقت پیدا ہو گی وہ ایک لمبے عرصہ تک قائم رہے گی۔اسی طرح اگر کوئی شخص احمدیت میں داخل ہو اور وہ سمجھ لے کہ میرے لئے مغفرت مقدر ہو گئی تو اس کا خیال غلط ہو گا۔کیونکہ جب تک احمدیت کا مغز اسے حاصل نہیں ہو گا وہ مغفرت کا اہل نہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَن يَنَالَ اللهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِن يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُم - 1 یعنی تم جو جانور خدا کی راہ میں ذبح کرتے ہو ان کے گوشت اور خون ہر گز خدا تعالیٰ تک نہیں پہنچتے بلکہ تمہارا تقویٰ خدا تک پہنچتا ہے۔اس لئے کہ قربانی کرنے والے کا خدا تعالیٰ کے ساتھ ایسا تعلق نہیں کہ وہ گوشت وغیرہ خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں پکڑا دے۔بے شک خدا تعالیٰ انسان کے پاس ہے اور اس کی شہ رگ سے زیادہ قریب ہے مگر انسان ظاہری حواس سے محسوس نہیں کر سکتا۔ہاں مرنے کے بعد خدا تعالیٰ سے ایسا تعلق ہو گا کہ اسے محسوس بھی ہو گا کہ میں خدا تعالیٰ کو ملتا ہوں۔گو یہ ملنا ایسا ہے جس کی ہم تعبیر نہیں کر سکتے لیکن بہر حال ایسی کیفیت ہو گی۔جس طرح کہ کشف یا خواب کے وقت ہوتی ہے۔خواب یا کشف میں جسم ساتھ نہیں ہو تا لیکن انسان محسوس یہی کرتا ہے کہ اس کا جسم ساتھ ہے اور وہ خالص روحانی اشیاء کو جسموں کے اندر دیکھتا ہے۔اور جس طرح مادی دنیا میں انسان کسی چیز کو