خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 38 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 38

$1943 38 خطبات محمود کے ایسے نوجوانوں کو جن کی تعلیم معمولی ہو۔صرف پرائمری پاس یا مڈل پاس یا مڈل فیل ہی ہوں۔اور بجائے کوئی اور کام کرنے کے جس میں انہیں اتنا ہی گزارہ مل سکے گا جتنا ہم دیں گے تبلیغ کے لئے اپنے آپ کو پیش کرنے پر آمادہ ہوں۔ان کے نام ارسال کریں۔ایسے نوجوانوں کو ہم اتنا ہی گزارہ دیں گے جتنا وہ کسی جگہ کما سکتے ہیں اور جتنا اُن کی قابلیت اور تعلیم کے دوسرے لوگ لے رہے ہیں۔اور تبلیغ کا ثواب ان کو الگ ہو گا۔گویا وہ ہم خُرما و ہم ثواب کے مصداق ہوں۔خُرمے کے خُرمے کھا سکیں گے اور ثواب الگ ہو گا۔ایسے نوجوان اگر محکمہ تعلیم میں مدرس مقرر ہوں تو زیادہ سے زیادہ 15، 20 روپے سے شروع کر کے ترقی کرتے کرتے 30،25 تک تنخواہ حاصل کر سکتے ہیں۔اور اگر سلسلہ کی خدمت میں بھی ان کو اتنی تنخواہ مل سکے اور تبلیغ کا ثواب علیحدہ ملے تو اُن کو کیا گھاٹا ہے۔اِس جہان کا سکھ بھی اُن کو حاصل ہو گا اور اگلے جہان کا بھی اور اس سے زیادہ بابرکت کام اُن کے لئے اور کون سا ہو سکتا ہے؟ ہزاروں لوگ جن کو ان کے ذریعہ تبلیغ ہو گی اُن کا ثواب اُن کو ملے گا اور جو اُن کے ذریعہ سلسلہ میں داخل ہوں گے اُن کا ثواب بھی اُن کو ملے گا۔جتنے لوگ اُن کی وجہ سے تقویٰ میں ترقی کریں گے اور جتنے لوگوں میں اُن کی وجہ سے احمدیت کی روح ترقی کرے گی ان سب کی نیکیاں اُن کے نام بھی لکھی جائیں گی۔پس ان کے لئے یہ کوئی مہنگا سودا نہیں۔وہ دنیا کے لحاظ سے تو جہاں بھی جائیں اتنا ہی کما سکیں گے جو ان کو سلسلہ کی طرف سے ملے گا اور ثواب الگ ہو گا۔آخر ایک پرائمری پاس یا مڈل تک تعلیم رکھنے والے نوجوان کو کوئی ڈپٹی کمشنر یا تحصیلداریا تھانیدار تو بنا نہیں دے گا۔ان کی کامیابی تو زیادہ سے زیادہ یہی ہو سکتی ہے کہ کسی پرائمری سکول میں مدرس ہو جائیں۔پہلے ایسے لوگ پٹواری بھی ہو سکتے تھے مگر آب تو کسی مڈل پاس کو بڑی سفارش سے پٹواری لے لیا جائے تو شاید لے لیا جائے ورنہ انٹرنس پاس کو لیا جاتا ہے اور پٹواریوں کی تنخواہ بھی زیادہ سے زیادہ 30،25 ہی ہوتی ہے۔اور جب لوگ دنیا کے لئے ایسے کام کرتے ہیں اور اتنی تنخواہ لیتے ہیں تو دینی کام میں کیوں ایسا نہیں ہو سکتا۔پس جو نوجوان اتنی تعلیم رکھتے ہوں اور جن کے سامنے دنیوی لحاظ سے کوئی بڑی نوکری نہ ہو وہ تبلیغ کے لئے اپنے آپ کو وقف کر دیں۔پہلے اپنے اخلاق درست کریں، تعلیم حاصل کریں اور پھر دوسروں کو