خطبات محمود (جلد 24) — Page 32
$1943 32 خطبات محمود والے نہ ہوں اور صرف ناظر یا ان کے مددگاروں پر بعض اثر والے احباب کے زور دینے یالحاظ کی وجہ سے رکھ لئے جائیں۔اس قسم کا لحاظ کرنا بھی ایک قسم کا گناہ ہے۔مگر اس گناہ پر ابھی ہندوستان کے لوگ غالب نہیں آسکے۔دوسرے تو بالکل ہی نہیں آسکے اور احمدیوں کا بیشتر حصہ بھی اس گناہ پر اچھی طرح ابھی غالب نہیں آسکا۔اگر کوئی ناظر کے پاس آکر اپنی حالتِ زار بیان کرے اور کہے میں بھوکا مر رہا ہوں ، بال بچوں کے گزارہ کی کوئی صورت نہیں۔تبلیغ کا بھی جوش ہے اور پانچ سات آدمی آکر کہہ دیں کہ آپ کا بڑا احسان ہو گا ہمارے اس آدمی کو نوکر رکھ لیں تو بسا اوقات اس دباؤ کو وہ برداشت نہ کر سکے گا۔وہ یہ خیال نہیں کرے گا کہ سلسلہ کی دنیا میں تبلیغ کا وہ خدا تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہے۔پانچ سات آدمیوں کی سفارش پر یا کسی امیدوار کے گڑ گڑانے اور منتیں کرنے پر کسی کو مبلغ رکھ لینے کا یہ نتیجہ بھی ہو سکتا ہے کہ مبلغین کلاس کا پاس شدہ نوجوان جس پر تعلیم دینے کے لئے سلسلہ نے سینکڑوں روپیہ خرچ کیا ہو جب تعلیم پا کر فارغ ہو تو اسے جواب دینا پڑے۔اس لئے کہ بجٹ میں گنجائش نہیں یا جتنے مبلغ رکھنے چاہئیں اتنے رکھے جاچکے ہوں۔پس اگر میں یہ اصول مقرر نہ کرتا تو اس کا ایک نتیجہ تو یہ ہوتا کہ مبلغین کلاس پاس شدہ نوجوان کام سے محروم رہ جاتے اور اُن پر جو روپیہ خرچ ہو چکا تھا وہ ضائع چلا جاتا اور پھر بعض ایسے لوگ بھی مبلغ رکھے جاسکتے جو در حقیقت تبلیغ کی قابلیت نہ رکھتے بلکہ محض اس وجہ سے رکھ لئے جاتے کہ انہوں نے الحاح سے درخواست کی ہوتی یا پانچ سات دوستوں نے ان کی سفارش کی ہوتی کہ یہ ہمارا آدمی بھوکا مر رہا ہے اس کے لئے روز گار کا ضرور کوئی انتظام کیا جائے۔اسلامی حکومت میں ہر فرد کے لئے روٹی کا انتظام کرنا حکومت کے ذمہ ہوتا ہے۔اور بے شک جس حد تک ہم سلسلہ کے نظام کو اپنے ملکی حالات کے لحاظ سے اسلامی نظام کا قائم مقام بنا سکتے ہیں اس حد تک ہر فرد کے لئے روٹی کا انتظام کرنے کا نظام سلسلہ ذمہ دار ہے مگر ہمارا موجودہ نظام ابھی ایسی حکومت کا قائم مقام نہیں جو ٹیکس وغیرہ لگا کر یا دوسرے ذرائع سے روپیہ حاصل کرنے کا حق رکھتی اور اس کے وصول کرنے کے لئے رعب اور طاقت رکھتی ہے۔ہمیں ابھی یہ حق اور اختیار حاصل نہیں۔اس لئے شرعاً بھی اور قانونا بھی ہم ان اُمور کو