خطبات محمود (جلد 24) — Page 287
$1943 287 خطبات محمود الله سة الله آیت ہی ایسی ہے جس کی تفسیر رسول کریم صلی للی کم سے مروی نہیں تو ہم جب بھی اس آیت پر پہنچیں گے ہمیں کہنا پڑے گا کہ اس کا مطلب ہمیں معلوم نہیں۔صاف عربی الفاظ ہوں گے، لغت میں وہ موجود ہوں گے لیکن اگر تفسیر بالرائے کی ممانعت کا مطلب یہ لیا جائے کہ جو تفسیر آنحضرت صلی ا م سے مروی نہیں وہ بیان نہ کی جائے تو اس آیت پر پہنچ کر ہمیں کہنا پڑے گا کا مطلب ہمیں معلوم نہیں۔اور اگر کوئی ایک آیت بھی ایسی ہو تو اسلام اور ایمان کا کچھ باقی نہیں رہ جاتا۔مگر واقع یہ ہے کہ قرآن کریم کا نصف سے زیادہ حصہ ایسا ہے جس کی کوئی تفسیر آنحضرت صلی ال ل ل ا م سے مروی نہیں۔پس لازماً تفسیر بالرائے کی ممانعت کے حکم کے اور معنے کرنے پڑیں گے اور وہ معنی یہ ہیں کہ سیاق سباق اور دوسری سب چیزیں جو قرآن کریم کے معانی کو حل کرنے کے لئے ضروری ہیں مثلاً لغت، نحو، صرف، عقل، مشاہدہ، خدا تعالیٰ کا قانون اور قرآن کریم کی دوسری آیات سب کو ملحوظ رکھتے ہوئے معنے کئے جائیں۔اس طرح جو تفسیر کی جائے گی وہ تفسیر بالرائے نہیں کہلا سکتی۔خواہ وہ معنے رسول کریم صلی اللہ کریم نے نہ کئے ہوں اور پھر یہ اصول بھی تو درست نہیں کہ جو معنے کسی نے رسول کریم صلی ال نیم کی طرف منسوب کئے ہوں ان کو ضرور مان لیا جائے خواہ وہ لغت، نحو، صرف، عقل ، مشاہدہ اور قرآن کریم کی دیگر آیات کے خلاف ہوں۔آخر جھوٹے راوی بھی تو ہوتے ہیں۔فرض کرو کوئی راوی رسول کریم صلی علیم کی طرف ایسے معنے منسوب کرتا ہے جو لغت کے مطابق نہیں تو کیا محض اس لئے کہ وہ روایت میں آگئے ہیں ہم انہیں مان لیں گے۔ہر گز نہیں بلکہ ایسی صورت میں ہم صرف یہ کہیں گے کہ یہ راوی جھوٹا ہے۔خود رسول کریم صلی الیم نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی شخص میری طرف کوئی ایسی بات منسوب کرتا ہے جو میں نے نہیں کہی تو وہ اپنی جگہ آگ میں سمجھے۔1 پس تفسیر بالرائے کے معنے سوائے اس کے کچھ نہیں کہ جو معنے کئے جائیں وہ لغت کے مطابق ہوں۔اگر کوئی راوی آنحضرت صلی اہل علم کی طرف کوئی ایسے معنی منسوب کرتا ہے جو لغت کے خلاف ہیں تو ہم یہ نہیں کہیں گے کہ آپ نے جو معنے کئے وہ غلط ہیں بلکہ یہ کہیں گے کہ راوی جھوٹا ہے اور اس نے آپ کی طرف غلط معنے منسوب کئے ہیں۔آپ عرب تھے اور آپ پر قرآن کریم جیسا فصیح کلام نازل ہوا۔پھر یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ آپ کوئی