خطبات محمود (جلد 24) — Page 28
$1943 28 خطبات محمود جیسے چوروں اور ڈاکوؤں کا مقابلہ کرنے والوں کی ہوتی ہے یا آگ بجھانے والوں کی ہوتی ہے۔حالا نکہ خطرہ دونوں مول لیتے ہیں مگر ایک کا کام چونکہ اپنے نتائج کے لحاظ سے زیادہ اہم ہوتا ہے اس لئے اسے زیادہ عزت حاصل ہوتی ہے اور دوسرے کا کام چونکہ اپنے نتائج کے لحاظ سے زیادہ اہم نہیں ہو تا اس لئے اسے زیادہ عزت حاصل نہیں ہوتی۔پس عظیم الشان نتائج کو اپنے ذہن میں رکھنا اور ان کے مطابق قربانی کرنا خود اپنی ذات میں ایک بہت بڑا کام ہو تا ہے اور جو شخص اس کام میں حصہ لیتا ہے وہ تھوڑا کام کرنے کے باوجو د بہت بڑے اجر کا مستحق ہوتا ہے۔لیکن وہ لوگ جو تنگ ظرف ہوتے ہیں جن کی نظر نہایت محدود ہوتی ہے جو چھوٹی چھوٹی باتوں کی طرف دیکھتے اور عظیم الشان نتائج کو نظر انداز کر دیتے ہیں اتنے ثواب کے مستحق نہیں ہوتے جتنے ثواب کے مستحق وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی نظر بہت دور تک چلی جاتی ہے۔میں سمجھتا ہوں ہمارے ملک میں کروڑوں لوگ ایسے ہیں جن کے دلوں میں موجودہ لڑائی کی کوئی اہمیت نہیں لیکن اگر اُن کے گاؤں پر چند ڈا کو حملہ کر دیں تو وہ ان سے لڑنے کے لئے تیار ہو جائیں گے۔حالانکہ جانتے ہوں گے کہ اگر ہم لڑے تو جان ضائع ہو جانے کا خطرہ ہے۔اسی طرح اگر ایک کھیت کی منڈیر پر جھگڑا ہو جائے تو وہ کٹ مرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔حالانکہ وہ بہت ہی معمولی بات ہوتی ہے۔لیکن باوجود اس کے کہ ایک منڈیر کا جھگڑا کوئی زیادہ اہم نہیں ہوتا ہمارے ملک میں ہر سال سینکڑوں آدمی ان جھگڑوں میں مارے جاتے ہیں اور پھر جو لوگ مارنے والے ہوتے ہیں ان کو گور نمنٹ پھانسی دے دیتی ہے۔اب دیکھ لو جان کا خطرہ یہاں بھی موجود ہے۔ایک شخص کلہاڑی سے مرتا ہے اور دوسر اپھانسی کے تختہ پر جان دے دیتا ہے۔مگر زمیندار اس کے لئے فوراً تیار ہو جائے گا کیونکہ اس کی نظر محدود ہوتی۔وہ ساری دنیا کو اپنے کھیت کی منڈیر میں محدود کرنا چاہتا ہے۔اس کے مقابلہ میں ایک اور شخص ہوتا ہے جو لڑائی کے لئے جاتا ہے مگر اس لئے نہیں کہ اسے پندرہ یا بیس یا پینسٹھ روپے تنخواہ ملے گی بلکہ اس لئے کہ دنیا پر اس وقت ایک بہت بڑا ابتلاء آیا ہوا ہے اور میرے ملک کی عزت خطرہ میں ہے۔میر افرض ہے کہ میں فوج میں شامل ہو جاؤں اور اپنے ملک کو دشمن کے حملہ سے بچاؤں۔اب یہ بھی اپنی جان کو خطرہ میں ڈالتا ہے بلکہ دوسروں کے مقابلہ میں کم خطرے