خطبات محمود (جلد 24) — Page 275
$1943 275 خطبات محمود دعووں کو ایک دن کے لئے بھی نہیں چھوڑ سکتے تھے کیونکہ یہ نہیں جانتے تھے کہ شاید وہی دن ان کی قوموں کے لئے ہدایت کا دن ہو یا شاید وہی دن ایسا ہو جس میں ان کا وفات پا جانا اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقدر ہو۔پس انہوں نے اپنے دعووں کو پیش کیا اور پیش کرتے چلے گئے۔بے شک مخالفتیں ہوئیں اور شدید مخالفتیں ہوئیں مگر انہوں نے ایک دن کے لئے بھی اپنے دعووں کو ملتوی نہیں کیا اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے وہ ملتوی نہیں کر سکتے تھے مگر دنیا میں بعض ایسی باتیں بھی ہوتی ہیں جنہیں ملتوی کیا جا سکتا ہے جیسے دنیوی جھگڑے ہیں۔انسان ان کے متعلق یہ خیال بھی کر سکتا ہے کہ اگر میں نے ان جھگڑوں کو ملتوی کر دیا اور میں مر گیا تو بھی کوئی بڑا نقصان نہیں ہو گا۔یہی خیال دوسر افریق کر سکتا اور اس طرح اپنے جھگڑوں کو ملتوی کر سکتا ہے تو جس جگہ پر کوئی چیز ایسی ہوتی ہے جسے کسی صورت میں بھی ملتوی نہیں کیا جا سکتا یا ایسی ہوتی ہے جسے کسی صورت میں بھی قربان نہیں کیا جا سکتا۔اس جگہ اپنی جان کو خطرے میں ڈالنا یا اپنی قوم کو خطرے میں ڈال دینا غیرت کہلاتا ہے۔یا عقل کسی کامیابی کی یقینی طور پر امید دلاتی ہو ، چاہے وہ دینی امر نہ ہو تو وہاں بھی اپنی جان کو یا اپنی قوم کی جانوں کو خطرے میں ڈالنا غیرت کہلاتا ہے۔اور ایسا فعل دوراندیشی پر مبنی سمجھا جاتا ہے۔لیکن جب بات ایسی ہو جسے چھوڑا جا سکتا ہو یا بات ایسی ہو جس کے متعلق انتظار کیا جاسکتا ہو اور اس انتظار میں اپنا اور اپنی قوم کا فائدہ ہو لیکن انسان پھر بھی مقابلہ کے لئے اٹھ کھڑ ا ہو اور مقابلہ بھی ایک ایسے دشمن کا کرے جس کے ساتھ لڑنے کی طاقت انسان کے اندر نہ ہو تو یہ تہور اور جنون ہو گا۔جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مسلمانوں کو جہاد کے متعلق تعلیم دی۔آپ نے فرمایا اب کافروں سے جنگ کے لئے جانا دین نہیں کہلا سکتا اور نہ موجودہ زمانہ میں کافروں سے جنگ کرنا غیرت کہلا سکتا ہے۔اس لئے کہ دشمن کے مقابلہ کے لئے جو چیزیں ضروری ہیں وہ تم میں موجود نہیں۔تم میں عزم نہیں۔تم میں استقلال نہیں۔تم میں ہمت نہیں۔تمہارے پاس جتھا نہیں۔تمہارے پاس دولت نہیں۔تمہارے پاس حکومت نہیں۔غرض جو چیزیں کسی قوم کو کامیاب کیا کرتی ہیں وہ تمہارے پاس موجود نہیں ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض دفعہ انسان کے پاس وہ چیزیں بھی نہیں ہوتیں جو مقابلہ کے لئے ضروری ہوتی ہیں مگر پھر بھی