خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 250 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 250

$1943 250 خطبات محمود سپرد تمام کام کر دیا۔حالانکہ میں نے وہ نام اس لئے لئے تھے کہ میرے نزدیک وہ اچھا دماغ رکھنے والے تھے ، ان کی رائے صائب اور سلجھی ہوئی تھی اور وہ مفید مشورہ دینے کی اہلیت رکھتے تھے۔اس لئے نام نہیں لئے تھے کہ ان میں کام کرنے کی ہمت اور قوت بھی نوجوانوں والی موجود ہے اور وہ دوڑ بھاگ بھی سکتے ہیں۔ان کا کام صرف نگرانی کرنا تھا اور ضروری تھا کہ ان کے ماتحت ایسے نوجوان لگائے جاتے جو دوڑنے بھاگنے کا کام کر سکتے۔اب بھی اگر وہ اچھا کام کرنا چاہتے ہیں تو انہیں سابق سیکرٹریوں کے ساتھ بعض نوجوان مقرر کر دینے چاہئیں۔چاہے نائب سیکر ٹری بنا کر یا جائنٹ سیکرٹری بنا کر تاکہ انصار اللہ میں بیداری پید اہو اور ان پر غفلت اور جمود کی جو حالت طاری ہو چکی ہے وہ دور ہو جائے۔ورنہ یاد رکھیں عمر کا تقاضا ایک قدرتی چیز ہے۔بے شک بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو ہر عمر میں خدا تعالیٰ کی حفاظت کے نیچے ہوتے ہیں مگر عام طور پر دنیا میں ایسا ہی ہوتا ہے کہ جوں جوں عمر بڑھتی جاتی ہے ہاتھ پاؤں رہ جاتے ہیں۔البتہ دماغ موجود ہوتا ہے جو ہر وقت سوچنے کا کام کرتارہتا ہے۔گویا اس عمر والوں کی ایسی ہی حالت ہوتی ہے جیسے بھاگنے والے کی حالت ہوتی ہے۔جب کوئی شخص مکان میں سے نکل کر بھاگنا چاہے تو پہلے وہ ایک پیر نکالتا ہے پھر دوسرا پیر نکالتا ہے۔پھر دھڑ نکالتا ہے اور پھر بھاگنا شروع کر دیتا ہے۔اسی طرح روح جب طبعی موت کے ذریعہ انسانی جسم میں سے بھاگتی ہے تو یہی طریق اختیار کرتی ہے۔پہلے وہ انسان کے ہاتھوں اور پاؤں سے نکلتی ہے۔انسان زندہ ہو تا ہے مگر اچھی طرح نہ ہاتھ ہلا سکتا ہے ، نہ پاؤں ہلا سکتا ہے اور اس کی آخری حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ دل اور دماغ میں سے بھی نکل جاتی ہے اور انسان اگلے جہان میں چلا جاتا ہے۔پس یہ بھاگنے کا سا وقت ہوتا ہے اور انسان دنیا کو چھوڑ رہا ہوتا ہے اور جو شخص دنیا کو چھوڑ رہا ہو اسے دوسروں کی اصلاح کا اتنا فکر نہیں ہو تا جتنا اسے اپنے نفس کا فکر ہوتا ہے۔وہ سوچتا بے شک ہے کیونکہ اس نے اپنا ماضی بھی دیکھا ہوا ہوتا ہے، اس نے دوسروں کا ماضی بھی دیکھا ہوا ہوتا ہے، لوگوں کی خوبیاں اور برائیاں اور ان خوبیوں اور برائیوں کے نتائج سب اس کی آنکھوں کے سامنے ہوتے ہیں، اس کے اپنے حالات زندگی بھی ایک ایک کر کے اس کے سامنے آتے ہیں اور دوسروں سے گزرے ہوئے واقعات بھی اس کی آنکھوں کے سامنے چکر لگاتے ہیں۔