خطبات محمود (جلد 24) — Page 234
$1943 234 خطبات محمود سے ہزار دو ہزار ، چار ہزار سال پہلے جانتا تھا کہ یہ یہ تغیر پیدا ہو گا۔اس لئے اسی نے اپنی حکمت کے ماتحت ایک ہی دفعہ ایسے الفاظ نازل کر دیئے جن سے ہر تغیر کے مطابق مفہوم نکلتا رہے گا۔اور وہ الفاظ چار ہزار سال ، دس ہزار سال بلکہ قیامت تک کے لئے کافی ہوں گے۔پس ہر تغیر کے مطابق کلام میں مفہوم پیدا کرنا چونکہ ایک عزیز ہستی کا ہی کام ہو سکتا ہے اور قرآن کریم میں یہ خوبی پائی جاتی ہے۔اس لئے معلوم ہوا کہ وہ عزیز و حکیم ہستی کی طرف سے نازل ہوا ہے۔اور انسانی کلام نہیں ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ایک معیار ایسا بیان فرمایا ہے جس کے ذریعہ ہم پہلے انبیاء کے کلام کو سمجھ سکتے ہیں۔اور پہلی نبوتوں کے حالات سمجھ سکتے ہیں۔اور قرآن کریم کی اس عظیم الشان خوبی کو سمجھ سکتے ہیں کہ ہر تغیر افکار کے وقت اس میں سے نیا مفہوم نکلے گا جو اس زمانہ کے لوگوں کے قلوب کی تسلی اور روحانیت کی ترقی کا باعث ہو گا۔آج ہم نے دیکھا ہے کہ پرانی تفسیریں جن کو پڑھ کر پہلے لوگ سر دُھنتے تھے ( اور ان میں اچھی باتیں بھی ہیں) مگر صفحے کے صفحے ان میں ایسے ملتے ہیں کہ جن کو پڑھ کر کہنا پڑتا ہے کہ کیا ر طب و یابس بھر دیا گیا ہے۔آخر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آکر وہ آیات جن کے معنی ایسے کئے جاتے تھے جو موجودہ زمانہ میں لوگوں کے لئے ٹھو کر کا باعث بن رہے تھے ان کے ایسے معنی پیش فرمائے جو ہمارے ذہن کے مطابق اور دنیا کے ذہن کے مطابق ہیں۔اور دنیا کے موجودہ مفاسد کو دور کرنے والے ہیں۔مگر ہم نہیں کہہ سکتے کہ یہ آخری معنی ہیں۔بے شک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آخری خلیفہ ہیں۔مگر دنیا میں ذہنی تغیرات ختم نہیں ہو سکتے۔آج سے دو ہزار سال بعد ایسا تغیر ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کسی ایسے انسان کو کھڑا کرے جو اس تغیر کے مطابق قرآن کریم کی آیات کے معنی پیش کرے۔پس یہ آیت ایک عظیم الشان مسئلہ پر دلالت کرتی ہے۔اس کے صرف یہ معنی نہیں ہیں کہ نبی اسی زبان میں بولتے ہیں جس زبان میں ان کی قوم بولتی ہے کیونکہ یہ تو معمولی سی بات ہے۔اور خدا تعالیٰ کے لئے یہ کوئی فخر کی بات نہیں ہے۔اس لئے لازماً اس آیت کے وہ